انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 4

انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالٰی کے راستہ میں تکالیف چکا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک جماعت ایک طرف سے آ رہی تھی اور دوسری دوسری طرف سے۔حافظ صاحب کہتے۔میں نے دیکھا وہ دونوں گروہ ایک دوسرے سے ملے اور رونے لگ گئے۔میں نے پوچھا۔تم کیوں روتے ہو؟ وہ کہنے لگے ایک حصہ ہم میں سے وہ ہے جو پہلے ایمان لایا اور اس وجہ سے دوسرے حصہ کی طرف سے اسے اس قدر دُکھ دیا گیا اور اتنی تکالیف پہنچائی گئیں کہ آخر وہ گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گیا پھر ہمیں ان کی کوئی خبر نہ تھی کہ کہاں چلے گئے۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا نور ہم میں بھی پھیلایا اور ہم جو احمدیوں کو اپنے گھروں سے نکالنے والے تھے خود احمد کی ہو گئے۔ہم یہاں جو پہنچے تو اتفاقا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہمارے وہ بھائی جنہیں ہم نے اپنے گھروں سے نکالا تھا دوسری طرف آ نکلے۔جب ہم نے ان کو آتے دیکھا تو ہمارے دل اس درد کے جذبہ سے پُر ہو گئے کہ یہ لوگ ہمیں ہدایت کی طرف کھینچتے تھے مگر ہم اُن سے دشمنی اور عداوت کرتے تھے یہاں تک کہ ہم نے ان کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا آج خدا نے اپنے فضل سے ہم سب کو اکٹھا کر دیا۔اس واقعہ کی یاد سے ہم چشم پُر آب ہو گئے۔کہا جاتا ہے کہ ضلع گجرات میں پھر سلسلہ کے خلاف شورش پیدا ہو رہی ہے اور پھر مخالفین مقابلہ کیلئے تیار ہو رہے ہیں۔یاد رکھو مقابلہ اور شورش مومن کیلئے خوشی اور مسرت کا موجب ہے نہ کہ دُکھ اور مصیبت کا باعث۔شاعر اپنے شعروں میں نہایت فخریہ انداز میں کہا کرتے ہیں۔ہم اپنے معشوق کیلئے یہ یہ دُکھ اُٹھاتے ہیں ، وہ کسی انعام کے طالب نہیں ہوتے ، وہ کسی روپیہ کا لالچ نہیں رکھتے بلکہ وہ دُکھ میں لذت اور محبوب کیلئے تکلیف اُٹھانے میں راحت محسوس کرتے ہیں مگر افسوس ہے کہ اس عشق حقیقی کے نتیجہ میں جہاں ہمارا مولیٰ ہمارا معشوق ہوتا ہے جو سارے حُسنوں کی کان ہے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہمیں دولت ملنی چاہئے ، ہمیں تمام دُکھوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل ہو جانی چاہئے ، حالانکہ وہ عشق ہی کیا جس میں درد نہ ہو اور وہ محبت ہی کیا جس میں سوز نہ ہو۔جیسا کہ ابھی خان صاحب (منشی قاسم علی خاں قادیانی) نے اپنے اشعار میں بتایا ہے۔دردِ دل کے بغیر عشق کا مزا نہیں۔پس یہ رنج کی بات نہیں کہ تمہیں اللہ تعالٰی کے راستہ میں تکالیف پہنچتی ہیں بلکہ خوشی اور مسرت کی بات ہے۔مجھے اس جلسہ سالانہ میں سب سے زیادہ خوشی ایک مجذوب سے دُبلے پتلے انسان کے کلام سے ہوئی۔وہ ملاقات کیلئے آیا اور جب سب مل چکے تو آخر میں اُس نے مصافحہ کیا اور کہنے لگا۔میں اپنے گاؤں میں اکیلا احمدی ہوں اور اکیلا ہی لوگوں کی گالیوں اور اُن کی مار پیٹ کا مزا لیتا ہوں۔اُس نے پنجابی میں فقرہ کہا