انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 2

انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف (فرموده ۳۰ دسمبر ۱۹۳۲ء بر موقع جلسه انصار الله بمقام مسجد نور قادیان) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری طبیعت تو آج زیادہ خراب تھی چنانچہ نماز میں بھی میں نہیں آسکا سر درد، نزلہ اور گلے میں درد کی شدید تکلیف ہے لیکن انصار اللہ کا کام اس قسم کا ہے کہ میں نے خود اس جلسہ میں شامل ہونا ضروری سمجھا اور چونکہ اس کی بنیاد میری کئی خوابوں پر رکھی گئی ہے اس لئے میں نے اس میں شرکت ضروری خیال کی۔پھر یہاں آکر جور پورٹ سُنی ہے اس سے اور بھی زیادہ احساس اِس بات کا ہوا ہے کہ مجھے جو کچھ کہنا ہے خود کہنا چاہئے ورنہ جمعہ کے متعلق تو میں نے یہی خیال کیا تھا کہ خطبہ کوئی اور پڑھ دے اور نماز میں پڑھا دوں گا کیونکہ گلے کے درد کی وجہ سے مجھے اتنی سخت تکلیف تھی کہ میں کوئی تقریر کرنا مناسب خیال نہیں کرتا تھا مگر یہاں شامل ہونے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ خواہ مجھے تکلیف بھی ہے، تب بھی میں اپنے خیالات ظاہر کر دوں۔میں چونکہ اونچی آواز سے نہیں بول سکتا اس لئے آگے آجاتا ہوں ( یہ کہہ کر حضور مسجد نور کے محراب سے برآمدہ کے درمیانی دروازہ میں تشریف لے آئے اور فرمایا ) آج با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے کام کے لحاظ سے اونچی آواز دی ہے اس قدر نزلہ، گلے اور سینے کے درد کی تکلیف ہے کہ میں باوجود کوشش کے اپنی آواز اونچی نہیں کرسکتا۔میں نے ذکر کیا ہے کہ میں اپنی تکلیف کی وجہ سے آج صرف یہ ارادہ رکھتا تھا کہ اس جلسہ میں شامل ہو کر چلا آؤں گا مگر رپورٹ سننے کے بعد دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ باوجود تکلیف کے مجھے کچھ نہ کچھ ضرور کہنا چاہئے۔شاہ صاحب نے جو کچھ رپورٹ سُنائی ہے اس سے معلوم ہوتا