انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 303

انوار العلوم جلد ۳ 303 تحقیق حق کا صحیح طریق کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مجھے نہ تو کوئی اس کا علم تھا اور نہ ہی طاقت تھی۔جب حضرت خلیفہ اول سخت بیمار ہوئے تو میں نے اختلاف پر غور کیا اور بہت غور کیا۔جب میں نے یہ دیکھا کہ جماعت کا ایک حصہ عقائد میں ہم سے خلاف ہے تو میں نے کہا کہ یہ لوگ ہماری بات تو نہیں مانیں گئے آؤ ہم ہی ان کی مان لیتے ہیں۔چنانچہ میں نے سب رشتہ داروں کو جمع کر کے کہا کہ سلسلہ میں اتحاد سب چیزوں پر مقدم ہے۔آؤ ہم ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور میں نے تجویز کیا کہ سب سے پہلے مولوی محمد احسن صاحب کی بیعت کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر ان پر اتفاق نہ ہو تو سید حامد شاہ صاحب کا نام پیش کیا جائے اور اگر ان پر بھی اتفاق نہ ہو تو مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے خیال کیا کہ لوگ ضرور میری بیعت کریں گے اور انکارِ خلافت پر اصرار کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اصرار کیا کہ میں بیعت لوں اور مجھے بیعت لینی پڑی۔پس میری خلافت غیر معمولی حالات میں ہوئی اور اس الہام کے ماتحت ہوئی۔اس کے بعد الہام کے دوسرے حصہ کے پورے ہونے کا وقت آیا۔جب میں خلیفہ ہوا اس وقت ہندوستان سے باہر احمدی نہ تھے۔یا اگر تھے تو وہ نسلاً ہندوستانی تھے۔مگر اب خدا کے فضل سے انگلینڈ امریکہ جزائر امریکہ ایران، شام الجزائر، سماٹرا، جاوا‘ بور نیو نیو گائنا گولڈ کوسٹ لیگوس، نٹال، مصر اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے مقامات پر جماعتیں ہیں۔کئی مقامات پر اپنی مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور ان لوگوں میں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دینے والے تھے آپ پر درود بھیجنے والے پیدا ہو گئے ہیں۔ایک انگریز نو مسلم نے جو پہلے عیسائی تھا مجھے خط لکھا کہ کوئی رات ایسی نہیں کہ میں سونے سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجوں کہ آپ ایسادین لائے اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس لئے کہ آپ کے ذریعہ یہ صداقت مجھ تک پہنچی۔چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اور اس کے بعد ہدایت خلق کیلئے درد اور ترپ ایک ٹی پارٹی ہے۔اس لئے اگر چہ مضمون ختم نہیں ہوا، تاہم تقریر کو میں ختم کرتا ہوں اور اگر رات کو جلسہ ہوا تو میں کوشش کروں گا کہ مضمون مکمل کر دوں۔اس کے بعد میں ان سب بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو جلسہ میں آئے اور محبت سے