انوارالعلوم (جلد 13) — Page 304
304 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق تقریر سنتے رہے اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب کرے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں کسی کیلئے کوئی کپٹ، کوئی کینہ یا بغض اور عناد نہیں، میں مخالفوں کے لئے بھی اپنے دل میں محبت کے جذبات رکھتا ہوں اور اپنا مقصد یہی سمجھتا ہوں کہ علاوہ اشاعت اسلام کے لوگوں میں باہم مؤدت پیدا کروں اور اگر ہندو بھائیوں میں ہمارے ذریعہ سے اتحاد ہو سکے تو میں اسے بہت بڑی کامیابی سمجھوں گا۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس مشن کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔لوگوں سے محبت اور پیار بڑھائیں، ہمدردانہ تعلقات پیدا کریں، میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میں جس نظر سے اپنے مخالفوں کو دیکھتا ہوں، شاید ان کے عزیز بھی انہیں نہ دیکھتے ہوں گے۔میرے دل میں ایک درد ہے، ایک تڑپ ہے کہ وہ ایک ایسے مقام سے محروم ہیں جس کے بغیر انسان کو حقیقی راحت حاصل نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے ان کے قلوب کھول دے اور ہمیں بھی توفیق دے کہ سچائی کو پھیلا سکیں اور اس کے لئے قربانی کرسکیں۔ساری دنیا کو بھائی بھائی بنا دیں اور توفیق دے کہ محبت اور پیار سے تبادلہ خیالات کر کے لوگوں کو اس نتیجہ پر پہنچنے کے مواقع بہم پہنچا سکیں کہ جس پر پہنچنے سے انسانی زندگی کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔اس کے بعد حضور تشریف لے گئے اور پھر مغرب وعشاء کی نمازیں جلسہ گاہ میں پڑھانے کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی۔معذرت سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مجھے افسوس ہے کہ ایک غلط نہی کی وجہ سے ہماری نماز ذرا دیر سے ہوئی اور جلسہ کے وقت میں سے کچھ نماز کیلئے لینا پڑا۔شرعاً تو مغرب و عشاء کی نمازوں کو دونوں وقتوں میں جمع کرنا جائز ہے لیکن انتظام کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے تجویز یہ تھی کہ مغرب کے ساتھ میں عشاء کی نماز پڑھا دوں اور اس کے بعد جلسہ کی کارروائی شروع کر دی جائے لیکن ایک غلط فہمی کی وجہ سے یہ تو قف ہو گیا۔اس لئے جو دوست وقت مقررہ پر تقریر سننے کیلئے آئے اور ان کو انتظار کرنا پڑا، میں ان سے معذرت چاہتا ہوں۔ہماری کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ ہر کام وقت مقررہ پر ہومگر آج غلط فہمی کے باعث ایسا ہوا اور میں جب نمازیں پڑھانے کیلئے آیا تو دوست یہاں نہیں تھے۔میں نے کہا تھا کہ میری تقریر کا کچھ حصہ باقی ہے۔اسے دوسرے وقت میں اگر ممکن ہوا تو بیان کروں گا۔اس وعدہ کے مطابق میں آب آیا ہوں۔گو سارا دن ملاقاتوں اور پھر تقریر کی وجہ