انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 302

302 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا اس وقت میں طالب علم تھا اور طالب علم بھی ایسا جو ہمیشہ فیل ہوتا تھا اور میں سمجھتا ہوں اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی وگر نہ اگر کچھ پاس کر لیتا تو ممکن ہے مجھے خیال ہوتا کہ میں یہ ہوں وہ ہوں لیکن اب تو اس حقیقت کا انکار نہیں ہوسکتا کہ جو کچھ مجھے آتا ہے یہ اللہ کا ہی فضل ہے میری اس میں کوئی خوبی نہیں۔کچھ عرصہ ہوا لا ہور میں دو مولوی صاحبان مجھ سے ملنے آئے اور بطور تمسخر ایک نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہے۔میں سمجھ گیا کہ ان کا مقصد کیا ہے۔میں نے کہا۔کچھ بھی نہیں۔کہنے لگے آخر کچھ تو ہوگی۔میں نے کہا صرف قرآن جانتا ہوں۔کہنے لگے بس قرآن۔مجھے ان پر تعجب ہوا کہ ان کے نزدیک قرآن جانا کوئی چیز ہی نہیں اور انہیں اس پر خوشی کہ ان کی تعلیم کچھ نہیں۔پھر ایک نے پوچھا۔انگریزی پڑھی ہوگی۔میں نے کہا پڑھتا تو تھا مگر ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا۔کہنے لگے تو پھر انگریزی بھی نہ ہوئی۔اس کے بعد پوچھنے لگے۔پرائیویٹ طور پر تو کوئی تعلیم حاصل کی ہوگی۔میں نے کہا وہ بھی قرآن ہی پڑھا ہے اور واقعی یہ امر واقع ہے۔میں ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا میری صحت کمزور تھی اور اطباء نے کہا تھا کہ اس کی تعلیم پر زور نہ دیا جائے، وگر نہ اسے سل ہو جائے گی۔ایسے شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام کرتا ہے کہ اے ابنِ رَسُولِ اللہ ! اُٹھے اور ساری دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت بھی میری عمر چھوٹی تھی۔پھر صدر انجمن کے بعض ممبر یہ کہہ رہے تھے کہ کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اور وہ پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں اور اس طرح گو یا خلافت کا نشان ہی مٹانے میں لگے ہوئے تھے۔اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے تو اس الہام کے پورے ہونے کا کوئی موقع نہ رہتا۔پھر اس کے بعد بھی بعض لوگ میری مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس کوشش میں رہے ہیں کہ میں خلیفہ نہ بن سکوں حالانکہ مجھے کبھی اس کا وہم بھی نہ تھا۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے میں گھر میں بیٹھا تھا کہ مسجد مبارک میں جو ہمارے گھر سے ملحق ہے خلافت کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ جھگڑا کیا ہے لیکن میرے کان میں آواز آئی کہ ہم نے مولوی صاحب کے ہاتھ پر تو بیعت کر لی تھی اب ایک لونڈے کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کریں۔مجھے کوئی وہم بھی نہ تھا کہ میں بھی خلیفہ ہوسکتا ہوں اس لئے میں نے بڑی حیرانی سے ایک صاحب سے جو اس مجلس میں شامل تھے دریافت کیا کہ یہ لونڈا کون ہے جس کا ذکر ہور ہا تھا انہوں نے بتایا کہ وہ آپ ہی کے متعلق بات ہو رہی تھی۔اللہ تعالی گواہ ہے اور میں اس