انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 287

287 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق شخص ڈھونگ رچائے تو وہ زیادہ سے زیادہ دو چار ماہ پہلے نمازوں کی پابندی کرے گا اور اپنے آپ کو نیک پاک ظاہر کرنے لگے گا۔وہ اسی دن سے اس کا اہتمام شروع کرے گا جس دن سے کہ اس نے لوگوں کولوٹنے اور ٹھگنے کا ارادہ کیا ہوگا، پہلے نہیں کیونکہ پہلے تو اسے پتہ ہی نہ تھا کہ اس نے آگے چل کر کیا کرنا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں سے کہو کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے جھوٹ بنایا ہے، تو اتنا تو خیال کرو کہ میں نے اپنی ساری عمر تم لوگوں میں بسر کی ہے تم ہی میں میں پیدا ہوا تم ہی میں مجھ پر جوانی کا عالم آیا اور تم ہی میں اُدھیڑ عمر آئی اتنے عرصہ میں کبھی تم نے مجھے جھوٹ بولتے دیکھا۔اگر نہیں تو پھر کیوں عقل نہیں کرتے۔بچپن کی نیکی کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ زمانہ گلیۂ خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے۔آپ کفار کے سامنے یہ بات پیش فرماتے ہیں کہ تم لوگوں میں ہی میں نے اپنا بچپن گزارا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ جب میں چھ سات سال کا تھا اُس وقت مجھے علم تھا کہ میں بڑا ہو کر ایسا دعوی کروں گا کہ میں اُسی وقت سے پاکیزہ رہنے کی کوشش کرتا ؟ آپ کے اس سوال کے جواب میں آپ کے تمام رشتہ دار بھائی دوست بلکہ دشمن بھی ساکت ہو گئے۔پھر جوانی کا زمانہ آیا کون ہے جو ۱۷ ۱۸ سال کی بھر پور جوانی کے ایام اس وجہ سے نیک رہ کر گزارے کہ ۴۰ سال کی عمر کو پہنچ کر کوئی دعوی کروں گا۔ظاہر ہے کہ یہ دن بھی خدا کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔خصوصاً ایسے لوگوں کی جوانی کے دن جن کے سامنے لالچ آتے ہوں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے لالچ آتے ہی نہیں مگر آپ کے سامنے لالچ آئے۔دنیا نے طرح طرح کے لالچوں کے ذریعہ آپ کو اپنی طرف کھینچنا چاہا مگر آپ اس سے جدا رہے۔پھر ادھیڑ عمر آئی اس میں بھی آپ نے وہ نمونہ دکھایا کہ کوئی حرف نہ رکھ سکا۔حضرت ابو بکر جو آپ کے خاص دوست تھے جب آپ نے دعوئی کیا اس وقت وہ باہر گئے ہوئے تھے واپس آئے تو ایک دوست سے ملنے گئے اس کے مکان پر بیٹھے تھے کہ اس کی لونڈی آئی اور آ کر کہا ابو بکر تمہیں معلوم ہے، تمہارا دوست تو سودائی ہو گیا۔آپ نے پوچھا کون سا دوست۔اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیا۔آپ نے دریافت کیا وہ کیا کہتا ہے۔لونڈی نے بتایا وہ کہتا ہے خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔آپ نے کہا اگر وہ ایسا کہتا ہے تو ٹھیک کہتا ہے۔اگر آپ کا پہلا کیریکٹر خدا تعالیٰ کے خاص تصرف کے ماتحت بے عیب نہ ہوتا تو کیوں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ایک منٹ کیلئے قحبہ پیدا نہ ہوا۔آپ اسی وقت