انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 286

286 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاذْقَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمُ مُلُوكًا ١٣ یعنی جب حضرت موسیٰ نے اپنے قوم سے کہا کہ یاد کرو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو جب اس نے تم میں نبی اور بادشاہ بنائے۔گویا نبوت اور بادشاہت دونوں نعمتیں ہیں۔دوسری جگہ آتا ہے کہ مسلمانوں میں منعم علیہ گروہ ہوگا۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ ان میں بھی بادشاہ اور نبی ہوں گے۔اب بادشاہ تو مسلمانوں میں ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے سینکڑوں سال تک متمدن دنیا کو اپنے زیر نگین رکھا۔پھر کیا یہ عجیب بات نہ ہوگی کہ نبی کوئی بھی نہ ہو۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر یہ وعدہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو وہی انعام ملیں گے جو پہلے لوگوں کو ملے۔پس ضروری ہے کہ مسلمانوں میں سے بھی کسی کو نبوت کا درجہ عطا ہو۔دعویٰ سے پہلی بے عیب زندگی کوئی شخص کہ سکتاہے کہ اچھا یہ بھی مان لیا کہ روحانی مصلح آنے والا ہے لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ مرزا صاحب ہی ہیں؟ گویا یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اپنے دعویٰ میں بچے تھے یا نہیں۔اس کے لئے ہم قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت دیکھتے ہیں اور اگر وہی ثبوت حضرت مرزا صاحب کے متعلق پائے جائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ آپ بھی سچے ہیں۔قرآن کریم میں اَفَمَنْ كَانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ " میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخاطبین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ غور کرو! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دعویٰ تمہارے سامنے ہے جسے سن کر قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اسے کیوں مانیں۔ہم اس سوال کو تسلیم کرتے ہیں مگر تم سوچو تو سہی کہ ان دلائل کی موجودگی میں کیا یہ رڈ کرنے کے قابل ہے۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے تین دلائل بیان کئے گئے ہیں۔پہلی بات آفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ ہے۔یعنی کیا وہ شخص بھی جو یہ دلائل رکھتا ہو اور یہ دلائل خدا کی طرف سے ہوں، انکار کے قابل ہو سکتا ہے۔اس کی صداقت کی پہلی دلیل تو یہ ہے کہ اسے وہ دلائل حاصل ہیں جنہیں بندہ بنا ہی نہیں سکتا۔ایسے دلائل قرآن کریم میں بیسیوں ہیں۔مگر میں اس وقت صرف چند ایک کولوں گا۔سورہ یونس میں آتا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُراً مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُون لے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے۔اگر کوئی