انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 41

۴۱ باب دوم یورایکسیلنسی! آپ کو اس عظیم الشان کام پر مبارک باد دینے کے بعد جس کی وجہ سے مجھے امید ہے کہ آپ کا نام انگلستان کے بہترین آدمیوں کے ساتھ ہمیشہ کیلئے یاد رکھا جائے گا میں آپ کے سامنے وہ بہترین تحفہ پیش کرتا ہوں جو دنیا کے خزانوں میں آپ کو نہیں مل سکتا اور جس کا ملنا محض خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور وہ تحفہ وہ پیغام حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترقی دینے اور اپنا قرب عطا کرنے کیلئے ارسال فرمایا ہے- ممکن ہے کہ آپ پر یہ دعوت گراں گذرے یا آپ اسے ایک مجنونانہ خیال سمجھیں لیکن ہر انسان اپنے یقین کے مطابق عمل کرتا ہے اور ہم چونکہ آپ سے محبت رکھتے اور آپ کی قدر کرتے ہیں اس لئے اس امر پر مجبور ہیں کہ اپنے دل کے یقین کے مطابق وہ صداقت آپ کے سامنے پیش کریں جس سے بڑھ کر کوئی چیز اس دنیا میں قیمت نہیں رکھتی- یورایکسیلنسی! وہ خدا جس نے آدم کو بھیجا اور نوح کو مبعوث کیا اور ابراہیم پر اپنا فضل کیا اور موسیٰ کو اپنا برگزیدہ بنایا اور مسیح علیہ السلام کو اپنے جلال کے تخت پر اپنے دائیں جگہ دی اسی نے حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری زمانہ کا نجات دہندہ کر کے مبعوث فرمایا ہے تاکہ آپ وہ سب کچھ سکھائیں جس کی برداشت اس سے پہلے دنیا نہیں رکھتی تھی اور تا آپ سے دنیا تسلی پائے اور دنیا کا سردار آپ کے ذریعہ سے ہمیشہ کیلئے قید کیا جائے- اور پھر اسی خدا نے اس زمانہ میں حضرت مسیح ناصری کی پیشگوئیوں کے تحت حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانی قرار دے کر مبعوث فرمایا ہے کیونکہ لکھا تھا کہ اس کا آنا مشرق سے ہو گا اور اسی طرح طبعیسامانوں سے ہو گا جس طرح مشرق سے مغرب کی طرف روشنی پھیل جاتی ہے- ۱؎اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس ملک سے واپسی پر اللہ تعالیٰ کے اس پیغام پر غور کریں گے جو غریب اور امیر‘ بادشاہ اور رعایا سب کیلئے برابر ہے اور بندوں کے ساتھ معاملہ میں ایک اعلیٰ نمونہ دکھانے کے بعد خالق کے تعلقات کو بھی اعلیٰ پیمانہ پر قائم کریں گے-