انوارالعلوم (جلد 12) — Page 42
۴۲ یورایکسیلنسی! آپ کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا احسان کیا ہے۔اگر آپ انگلستان کی تاریخ پر ایک مجموعی نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انگلستان کی ترقی غیر معمولی مشکلات کے موقع پر ایسے حوادث کے ذریعہ سے ہوتی رہی ہے جسے گو بعض لوگ اتفاق حسنہ کہہ دیں لیکن بصیرت رکھنے والے انسان ان میں خدا تعالیٰ کے فضل کا جلوہ دیکھتے ہیں۔اتفاق حسنہ ایک منفرد واقعہ کا نام ہوتا ہے لیکن انگلستان کی پچھلی چھ سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے غیر معمولی حوادث جن کے ذریعہ سے انگلستان کی بعض تاریک ترین گھڑیاں بعد میں اس کی روشن ترین ساعتیں ثابت ہوئی ہیں ایک لمبے سلسلہ میں منسلک ہیں۔جس کی کڑیوں کو الگ الگ دیکھ کر گو اتفاق حسنہ کہا جا سکے لیکن جنہیں مجموعی نظر سے دیکھ کر خدا تعالیٰ کی مشیت کے سوا کسی اور سبب کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ کی یہ خاص نگاہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انگلستان سے کوئی خاص کام لینا چاہتا ہے اور وہ کام وہی ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے بذریعہ الہام بتایا ہے۔یعنی ایک دن انگلستان اسلام کو قبول کر کے اسی طرح خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا وارث ہونے والا ہے جس طرح اس نے دنیا کی بادشاہت سے ورثہ پایا ہے۔۲؎ انگلستان جس قدر بھی خوش ہو بجاہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پسند ٹھہرا۔وہ ایک دلہن ہے جسے آسمانی دولہا نے اپنے لئے پسند کر لیا‘ ایک موتی ہے جو جوہری کی نگاہ میں جچ گیا‘ ایک درخت ہے جسے باغبان نے باغ کے وسط میں لگایا۔یورایکسیلنسی! بے شک سیاسی مسائل اپنے اندر دلوں کو جذب کر لینے کی طاقت رکھتے ہیں اور میدان سیاست میں کامیاب ہونے والا بہت عزت و شہرت پاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے پانے کی کوشش کرنے والا اس سے بھی زیادہ عزت و شہرت پاتا ہے۔یورپ و ایشیا میں بڑے بڑے سیاسی لوگ اور بادشاہ گزرے ہیں لیکن ان میں سے کتنے ہیں جو گلیل و یروشلم کے چندماہی گیروں اور محصول لینے والوں کے برابر شہرت و عزت کے مالک ہو سکے ہیں۔یقیناً وہ گلیل کے ماہی گیر خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی اور دنیا کی نگاہوں میں بھی بادشاہوں سے بھی زیادہ عزت وشہرت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا تعلق ایک خدا تعالیٰ کے برگزیدہ سے پیدا کیا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ دنیا کے خادموں سے اللہ تعالیٰ کے خادم زیادہ مرتبہ پائیں گے۔پس جس طرح آج سے انیس سو سال پہلے ایک خدا کے برگزیدہ سے تعلق نے دنیوی لحاظ سے ادنی ٰحیثیت کے آدمیوں کو شہرت و عزت کے بلند ترین مینار پر جا کھڑا کیا اسی طرح اس وقت