انوارالعلوم (جلد 12) — Page 40
۴۰ پُر امن طریق سے ترقی کرنے کے ذرائع سے محروم کر دیا جائے- احمدی جماعت نے ہندوستان سے باہر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ موت سے نہیں ڈرتی اور جو قربانی ہم نے ہندوستان سے باہر کی ہے وہی قربانی ہم ہندوستان کے اندر بھی کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ عدل اور انصاف کے قیام کیلئے جو قربانی بھی کی جائے کبھی ضائع نہیں جاتی- لیکن ہم ساتھ ہی آپ سے اور آپ جیسے نیک ارادے رکھنے والے دوسرے دوستوں سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ایسی صورت پیدا نہیں ہونے دیں گے کہ ہندوستان ایک لمبے عرصہ تک کیلئے فتنہوفساد میں مبتلا ہو جائے اور اس کی آزادی اس کیلئے لعنت کا موجب ثابت ہو- اگر ایسا ہوا تو یہ امر ہندوستان کیلئے تکلیف کا موجب ہو گا ہی انگلستان بھی علاوہ مورد الزام بننے کے اس فتنہ کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکے گا- پس میں امید کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات جو بالکل جائز اور مناسب ہیں اور ان کے جدا گانہ تمدن اور ان کی گری ہوئی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے جس کی اخلاقی ذمہ واری انگلستان پر بھی ہے نہایت ضروری ہیں پورا کرنے کے لئے آپ انگلستان میں جا کر پوری کوشش کریں گے اور ثابت کر دیں گے کہ جہاں آپ ہندوستان کو ہومرول (HOME RULE) دلانے کی کوشش میں گلیڈسٹون (GLAD STONE) ثابت ہوئے ہیں وہاں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے آپ ڈی اسرائیلی سے کم جوش نہیں رکھتے تاکہ برطانوی افراد کا زور اس کے کمزور کرنے میں نہیں بلکہ اس کے مضبوط کرنے میں خرچ ہو- اس کے بدلہ میں میں جماعت احمدیہ اور اس کے دوستوں کی طرف سے یہ اقرار کرتا ہوں کہ خواہ ہندوستان کی دوسری جماعتیں کچھ بھی کریں ہم لوگ ہمیشہ اس امر کا لحاظ رکھیں گے کہ برطانوی ایمپائر (EMPIRE( کو جو ہمارے نزدیک باوجود اپنی کمزوریوں کے دنیا کے اتحاد کا نقطہ مرکزی بننے کی اہلیت رکھتی ہے مضبوط کرنے اور ہندوستان سے اس کے تعلق کو خوشگوار طور پر بڑھانے کیلئے کوشاں رہیں گے اور یہ ایک ایسی جماعت کا وعدہ ہے جس کے وعدوں کی قیمت اور سچائی پر گزشتہ پچاس سالہ تاریخ شاہد ہے-