انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 420

۴۲۰ کے سوا کوئی اور آسمانی کتاب بھی کلام اللہ کے نام کی مستحق ہے- حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام کلام اللہ نہیں رکھا گیا- پھر اس کو ہم کلام اللہ کیسے کہہ سکتے ہیں- خصوصاً جب کہ میں آئندہ ثابت کروں گا کہ تاریخاً بھی ان میں سے کوئی کتاب کلام اللہ نہیں- قرآن کریم میں انبیاء کو کلمہ کہا گیا ہے- الہامات کو کلمات کہا گیا ہے- بلکہ کلمات اللہ بھی کہا گیا ہے- یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلم اللہ موسی تکلیما ۵؎موسیٰؑ سے خدا نے خوب اچھی طرح کلام کیا- لیکن باوجود اس کے حضرت موسیٰؑ کی کتاب جس کا بہت سی جگہ قرآن کریم میں ذکر آیا ہے- اسے کلام اللہ نہیں کہا گیا- جیسا کہ فرمایا- نبذ فریق من الذین اوتوا الکتب کتب اللہ وراء ظھورھم کانھم لایعلمون-۶؎ یعنی وہ لوگ جن کو کتاب اللہ دی گئی تھی انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا گویا کہ انہیں علم ہی نہیں- پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے- کتاب اللہ ہر اس کتاب کو جس میں خدا کی باتیں ہوں کہا جا سکتا ہے- لیکن کلام اللہ ہر ایک کو نہیں کہا جا سکتا- دوسری الہامی کتابوں کو کتاب اللہ کہا گیا ہے- اور کتاب اللہ کا لفظ قرآن کے متعلق بھی موجود ہے مگر دوسرا لفظ کلام اللہ صرف قرآن کیلئے استعمال کیا گیا ہے- کسی اور کے لئے نہیں- یہ فرق ہے اور یہ بغیر حکمت کے نہیں- وحی الہٰی کی مختلف اقسام اس فرق کو سمجھنے کیلئے یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کی وحی کئی قسم کی ہوتی ہے- (۱)ایک وہ وحی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں کانوں میں پڑتی ہے- اور زبان پر جاری ہوتی ہے- مثلاً خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو سنایا- الحمدللہ رب العلمین۷-؎ یہ الفاظ کان میں آواز کے طور پر پڑے- اور زبان پر جاری ہوئے- اس آیت کا ا‘ ل‘ ح‘ م‘ د اور ان کے اعراب سب خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے ہیں- یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک مضمون رسول کریم ﷺ کے دل میں ڈال دیا- بلکہ ہر حرف اور ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے- یہ وحی سب انبیاء پر نازل ہوئی- دوسری وحی رؤیا اور کشوف ہیں- یہ الفاظ میں نہیں بلکہ نظاروں میں ہوتی ہے- مثلاً رسول کریم ﷺ جب احد کی جنگ میں تشریف لے جانے لگے- تو آپﷺ نے دیکھا کہ آپﷺ کی تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے- اور دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی جا رہی ہے- آپﷺ نے فرمایا- تلوار کی شکستگی سے مراد فتح ہے جو مشتبہ ہوگی- اور گائے کے ذبح ہونے سے مراد یہ ہے