انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 421

۴۲۱ کہ کچھ احباب شہید ہونگے- یہ وحی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی مگر فرق یہ ہے کہ پہلی وحی الفاظ میں تھی- اور یہ نظارہ میں ہے- اور نظارہ بیان کرتے وقت اپنے الفاظ بیان کرنے پڑتے ہیں- بالکل ممکن ہے کہ اس بیان میں کچھ اونچ نیچ ہو جائے- (۳)تیسری وحی خفی ہوتی ہے جو الفاظ میں نازل نہیں ہوتی- نہ نظارہ دکھایا جاتا ہے بلکہ تفہیم اور انکشاف کے ذریعہ سے ہوتی ہے- دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی دل میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ تمہارا خیال نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ڈالا گیا ہے اور الفاظ اس کو خود بنانے پڑتے ہیں- یہ سب سے ادنیٰ درجہ کی وحی ہے- اس سے بڑھ کر رؤیا اور کشف کی وحی ہوتی ہے- مگر اس میں تاویل کی ضرورت ہوتی ہے اور تاویل میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے- لیکن پہلی وحی جو الفاظ میں ہوتی ہے اس میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہوتا- یہ سب سے اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے- اب اگر ایک نبی اپنی تمام وحی کو ایک کتاب میں جمع کر دے جس میں وحی کلام بھی ہو- اور وحی کشف و رؤیا بھی ہو اور وحی خفی بھی نبی کے اپنے الفاظ میں ہو تو اسے ہم کتاب اللہ تو کہہ سکتے ہیں- لیکن ہم اسے کلام اللہ نہیں کہہ سکتے- کیونکہ وہ سب کی سب کلام اللہ نہیں بلکہ اس میں ایک حد تک کلام بشر بھی ہے گو مضمون سب کا سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے- اور اس وجہ سے وہ کتاب کتاب اللہہ ہے- اب اس فرق کو مدنظر رکھ کر دیکھ لو- دنیا کی کوئی کتاب خواہ کسی قوم کی ہو اور کس قدر ہی شد و مد کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہو کلام اللہ نہیں ہو سکتی- کیونکہ ایک بھی ایسی کتاب نہیں نہ موجودہ صورت میں اور نہ اس صورت میں جس طرح کسی نبی نے دی تھی کہ اس کے تمام کے تمام الفاظ خدا تعالیٰ کے ہوں- اس میں بعض الفاظ خدا تعالیٰ کے ہونگے بعض نظارے ہونگے اور بعض مفہوم بیان کئے گئے ہونگے- اگر آج ہم تورات سے ان زوائد کو نکال دیں جو یہودیوں نے اپنی طرف سے ملا دیئے ہیں- مثلاً اس میں لکھا ہے کہ- ‘’سو خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا- اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا’‘- *۷؎ تب بھی تورات کلام اللہ نہ ہوگی- کیونکہ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ- ‘’اس وقت خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں آگ کے شعلے میں اس پر ظاہر ہوا- اس نے