انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 243

۲۴۳ کہ بے غیرتی اور غصہ دو انتہائی مقام ہیں‘ ہمیں ان سے بچ کر غیرت اور عفو کے مقام پر جو وسطی مقام ہے‘ کھڑا ہونا چاہئے- ہماری جماعت کے بہت سے لوگ اس حکمت کو وقت پر بھول جاتے ہیں- کاش ہم اپنے نفس کو خدا اور انسانیت کے لئے قربان کرنے کا ملکہ پیدا کر سکیں کیونکہ یہی کنجی سب روحانی ترقی کی ہے- میں اس مضمون پر گو یہ جواباً لکھا گیا ہے‘ اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا- اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد مولوی محمد یعقوب صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے جلسہ میں شامل ہوئے- ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب محض علالت کی وجہ سے (اللہ تعالیٰ انہیں شفا عطا فرمائے( شامل نہیں ہوئے- ورنہ وہ شروع سے سچی ہمدردی کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں- اور بغیر کسی ملامت کے خوف کے احرار کے بارہ میں مضمون لکھتے رہے ہیں- اس سے صاف ظاہر ہے کہ زیرک شاہ صاحب کا مضمون احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا پسند کردہ مضمون نہ تھا- اور ایک آدمی کی غلطی سب کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی- محض انجمن کے اخبار میں کسی مضمون کا شائع ہونا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ انجمن اس سے متفق ہے- اس قسم کے مضامین کا تسلسل اور بلا تردید تسلسل اس امر پر دلالت کر سکتا ہے لیکن ابھی تک یہ بات ثابت نہیں- پس اس قدر جلدی جواب میں جوش و غضب کا رویہ اختیار کرنا ہر گز مناسب نہ تھا- الفضل میں بھی کئی ایسے مضامین شائع ہوتے ہیں کہ جو میرے منشاء کے خلاف ہوتے ہیں- ان کی ذمہ داری مجھ پر یا صدر انجمن احمدیہ پر نہیں ہو سکتی کیونکہ بسا اوقات مضمون نظر سے ہی نہیں گزرتا یا گزرے تو اس غلطی کو انفرادی یا معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے- گو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ غلطی بہت اہم غلطی تھی اور چاہئے تھا کہ ‘’پیغام صلح’‘ کے ایڈیٹر اس سے اختلاف ظاہر کر دیتے کیونکہ اس مضمون سے خود ان کی ا نجمن کے ممبر جو کشمیر میں رہتے ہیں‘ ناراض ہوئے ہیں- لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا رویہ اس بارہ میں وہی ہونا چاہئے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں- ہمارا فرض مولانا میرک شاہ صاحب کی برائت تک ختم ہو جانا چاہئے تھا دوسرے پہلو کو خود احمدیہ انجمن اشاعت اسلام پر یا اس کے ممبروں پر چھوڑ دینا چاہئے تھا- خاکسار- مرزا محمود احمد (الفضل ۲۹ مئی ۱۹۳۲ء)