انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 242

۲۴۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مسئلہ کشمیر ‘’پیغام صلح’‘ اور ‘’الفضل’‘ گذشتہ ایام میں ‘’پیغام صلح’‘ میں ایک مضمون کسی صاحب زیرک شاہ صاحب کا شائع ہوا تھا- اس مضمون میں زیرک شاہ صاحب نے مولانا سید میرک شاہ صاحب پر اعتراض کیا ہے کہ وہ قادیان کیوں جاتے ہیں اور کیوں مجھ سے مل کر کشمیر کا کام کرتے ہیں؟ اگر کشمیر کی خدمت کرنی ہی مدنظر ہوتی تو احرار سے مل کر کام کرتے- مضمون نہایت نامناسب‘ زبان ناپسندیدہ اور مقصد نہایت غلط تھا- مولانا میرک شاہ صاحب نے اگر باوجود اختلاف عقیدہ مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے مجھ سے مل کر کام کیا تو وہ اس میں منفرد نہ تھے- اہل حدیث‘ شیعہ‘ حنفی‘ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ممبر غرض ہر قسم کے لوگ اس امر میں آلانڈیا کشمیر کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں- اور یہ ایک نہایت اعلیٰ علامت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب مسلمان ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں کہ اپنے ذاتی اختلافات کو قربان کر کے اپنی ملی بہبود کو مقدم کرنے لگے ہیں- اس حالت پر جس قدر خوشی کا اظہار کیا جائے کم ہے- میں نے جب یہ مضمون پڑھا تو مجھے خطرہ ہوا کہ اس کو بنائے مخاصمت بنا کر ایک نیا فتنہ پیدا کر دیا جائے گا اس لئے میں نے درد صاحب سے کہا کہ وہ مولوی محمد یعقوب صاحب ایڈیٹر لائٹ سے کہیں کہ یہ مضمون ناپسندیدہ تھا‘ وہ اس کا کچھ علاج کریں اور خود کوئی ایسا جواب نہ دیا جائے جو فتنہ کو لمبا کر کے ہماری کشمیر کے مسلمانوں کے متعلق گزشتہ محنت کو برباد کر دے- مجھے افسوس ہے کہ باوجود میری ہدایت کے ‘’الفضل’‘ میں ایک جواب اس مضمون کا شائع ہوا ہے جو درگزر کی روح اور عفو کا نمونہ پیش کرنے کی بجائے غصہ اور غضب کی روح کو ظاہر کرتا ہے- مزید افسوس یہ ہے کہ یہ مضمون ایڈیٹوریل ہے- ہم غصہ سے کینہ کو دور نہیں کر سکتے- محبت اور عفو کی روح ہی دلوں کی اصلاح کر سکتی ہے- میں اسے نہایت ناپسند کرتا ہوں کہ بیغیرتی یا غضب ہم پر غالب آ جائیں- مجھے افسوس ہے کہ باوجود میرے بار بار سمجھانے کے