انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 74

۷۴ لیکھو نام والدین نے رکھا پس میرے نقطئہ نگاہ کے مطابق پنڈت لیکھرام کو لیکھو لکھنا ہرگز خلاف اخلاق نہیں کیونکہ ان کا نام ان کے والدین نے لیکھو ہی رکھا تھا جیسا کہ لالہ منشی رام جی المعروف سوامی شردھانند جی کی تحریر کردہ سوانح عمری سے ظاہر ہے- سوامی شردھانند پنڈت لیکھو صاحب سے بڑی حیثیت کے آدمی تھے اور خود ان کی پارٹی کے تھے اور پھر ان کے ہم وطن تھے- پس ان کی تحریر کو دشمن کی تحریر نہیں کہا جا سکتا اور ان کی شہادت اس لئے زیادہ معتبر ہے کہ انہوں نے یہ بات پنڈت لیکھو صاحب کے چچا سے سن کر لکھی ہے- پس اب آریہ صاحبان اور حکومت کے لئے اصولا صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے کہ وہ یہ ثابت کر دیں کہ سوامی شردھانند جی نے جو کچھ لکھا ہے عداوت سے اور جھوٹ لکھا ہے- تب بے شک وہ ہم سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پنڈت لیکھرام کو لیکھرام لکھا کرو اور اگر وہ ایسا ثابت کر دیں تو گورنمنٹ سے پہلے میں الفضل کو تنبیہہ کروں گا- لیکن اگر سوامی شردھانند جی نے سچ لکھا ہے اور پنڈت جی کا نام لیکھو ہی تھا تو لیکھو کو لیکھو لکھنے پر وارننگ دینے میں حکومت نے نہایت بے انصافی سے کام لیا ہے اور اس پر شور مچانے والے آریوں نے حماقت سے- مسیح موعود کا نام والدین نے کیا رکھا اب اوپر کی بات کو سمجھ کر آریہ اخبارات حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مرزو لکھیں یا غلمو یا سندھی جیسا کہ انہوں نے نوٹس دیا ہے- لیکن اگر انہیں شرافت انسانی سے کوئی بھی حصہ ملا ہے تو انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام ان کے والد نے غلاماحمد نہیں بلکہ مرزو یا غلمو رکھا تھا غلام احمد بعد میں انہوں نے خود یا ان کی جماعت نے رکھ لیا- اگر وہ یہ ثابت کر دیں گے تو ہمیں ہرگز ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا بلکہ ہم انہیں حق بجانب سمجھیں گے- اسلامی بادشاہوں کی ہتک میں نے اپنے خطبہ میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ مسلمانوں کے بزرگوں کی طرح مسلمانوں کے بادشاہوں کے خلاف بھی ہندوؤں کا ایک طبقہ خصوصاً آریہ بد کلامی اور دشنام دہی سے کام لیتا رہتا ہے لیکن حکومت اس طرف توجہ نہیں کرتی- لیکن اسلامی بادشاہوں کے باغی جو بھگت سنگھ وغیرہ کے طریق پر چلتے رہے ہیں جیسے سیواجی وغیرہ- جب بعض اسلامی اخبارات