انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 75

۷۵ نے ان کی اصلیت کو بے نقاب کرنا چاہا ہے تو حکومت اس میں دخل دیتی رہی ہے- لیکن یہ بیاصولاپن ہے اور اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ حکومت بعض موقعوں پر عدل اور انصاف کے ماتحت نہیں بلکہ ضرورت اور ذاتی اغراض کے ماتحت کام کرتی ہے- اگر یہ نہیں تو حکومت اس امر میں امتیاز کر کے دکھاوے کہ کیوں سیوا جی کو برا کہنے پر وہ قانون کو جنبش دیتی ہے لیکن اورنگ زیب کو برا کہنے پر کچھ نہیں کہتی اور کیوں وہ سیواجی کے خلاف لکھنے والوں پر اظہارناراضگی کرتی ہے جب کہ وہ بھگت سنگھ کی تائید میں جو یقیناً سیواجی سے بڑھ کر حبوطنی کے جذبہ سے معمور تھا مضمون لکھنے والوں کو ملک کے امن کا برباد کرنے والا قرار دیتی ہے- سیواجی اور بھگت سنگھ کا مقابلہ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر سیواجی اور بھگتسنگھ کا مقابلہ کیا جائے تو بھگت سنگھ یقیناً سیواجی سے زیادہ حب وطن کے جذبات سے معمور تھا کیونکہ سیواجی کو لوٹ مار کی بھی خواہش تھی جو بھگت سنگھ کو نہ تھی- سیواجی کو احتمال تھا کہ اگر میں جیتا تو ملک کا بادشاہ ہو جاؤں گا لیکن بھگت سنگھ جانتا تھا کہ میں انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے میں کامیاب بھی ہو جاؤں تب بھی حکومت گاندھی جی اور نہرو جی کے قبضہ میں جائے گی اس کے نام صرف شاباش ہی شاباش لکھی جائے گی- سیواجی جانتا تھا کہ وہ بھی اورنگ زیب کی طرح تلوار چلا سکتا ہے اور مقابلہ کر کے ہوس نکال سکتا ہے- لیکن بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اسے چوری چھپے حملہ کرنے کے سوا برسر پیکار آنے کا موقع میسر نہیں- سیواجی کے پیچھے اس کی قوم کی امداد تھی اور بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اس کی قوم کے بزدل مخفی طور پر شاباش دینے کے سوا اس کی کوئی امداد نہیں کریں گے- بلکہ ظاہر میں اس کے فعل سے برائت کا اظہار کرتے رہیں گے- سیواجی جانتا تھا کہ مسلم بادشاہ اپنی قدیم روایات کے مطابق اس سے نرمی کا سلوک کرے گا- بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اسے انگریزی قانون کے ماتحت ایک فوجی کی موت مرنے کا بھی موقع نہیں دیا جائے گا بلکہ ایک مجرم کی موت مرنے پر مجبور کیا جائے گا- سب سے آخر میں یہ کہ سیواجی اس بادشاہ کے مقابل پر کھڑا ہوا تھا جس نے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا تھا اور جسے غیر ملکی بادشاہ نہیں کہا جا سکتا تھا- لیکن بھگت سنگھ ایک غیرملکی حکومت کے خلاف کھڑا تھا- پس ان سب امتیازوں اور ان کے علاوہ اور بہت سے امتیازوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیواجی یقیناً بھگت سنگھ سے بہت ادنیٰ تھا اور اگر اس کا فعل