انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 73

۷۳ نہیں سمجھتی- یہی حال معلوم ہوتا ہے آریوں میں سے ایک گروہ کا ہے کہ وہ ایک مقدس ہستی کو قاتل کہہ کر پھر خیال کرتے ہیں کہ ہم نے گالی نہیں دی- گویا کہ وہ اس لفظ کو بہت اچھا سمجھنے لگے ہیں- شاید کانپور‘ بنارس وغیرہ مقامات پر عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے بعد اب وہ اپنی فطرتوں کو تسلی دینے کے لئے اس عیب کو عیب نہ قرار دیتے ہوں لیکن انہیں یاد رہے کہ احمدی اور ہر شریف انسان قتل کو گناہ اور عیب سمجھتا ہے اور اپنے بزرگوں کی نسبت اس لفظ کے استعمال کو گالی قرار دیتا ہے- پس جب انہوں نے یہ لفظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت استعمال کیا اور اب تک کر رہے ہیں تو احمدی جو کچھ شائع کریں گے جوابی ہو گا اور اخلاقی ذمہ داری خود آریوں پر یا حکومت پر ہو گی- اعزازی خطاب استعمال کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا (۲) دوسری بات میرے نقطئہ نگاہ کے متعلق انہیں اور حکومت کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ میرے نزدیک حکومت یا کسی قوم کا یہ حق نہیں کہ ہم کسی دوسری قوم کے اعزازی خطاب اس کے افراد کے متعلق استعمال کریں- اخلاقی طور پر ہم سے یہ تو امید رکھی جا سکتی ہے کہ ہم ظاہری آداب کو ملحوظ رکھیں لیکن یہ نہیں کہ ہم ان کے خود ساختہ خطابات کو بھی استعمال کیا کریں- لالہ منشی رام جی بعد میں سوامی شردھانند بن گئے اب ہم سے یہ تو توقع کی جا سکتی ہے کہ ہم لالہ اور جی کا لفظ ان کے نام کے ساتھ لگائیں یا اور کوئی ادب کا لفظ ان کے نام کے ساتھ بڑھا دیں جو عام گفتگو میں استعمال ہوتا ہو لیکن اس امر پر ہمیں مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ ہم منشی رام کا نام چھوڑ کر انہیں شردھانند لکھا کریں- اسی طرح گاندھی جی کو جی کہہ کر یا صاحب کہہ کر پکارنے کی تو ہم سے امید کی جا سکتی ہے اور اخلاقا ہمیں ایسا کرنا چاہئے لیکن ہم سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ہم انہیں مہاتما بھی کہیں- چنانچہ اسمبلی میں ایک دفعہ ایک گورنمنٹ ممبر نے جب مسٹر گاندھی کہا اور لوگوں نے شور مچایا تو اس نے نہایت زور سے کہا کہ مہاتما میں نہیں کہہ سکتا میں مسٹر ہی کہوں گا اور اسی طرح ایک دفعہ غالباً مسٹرجناح کے ساتھ بھی ہوا- غرض عُرفِ عام کے مطابق اخلاقاً ایک دوسرے کے نام کے ساتھ صاحب وغیرہ کے الفاظ لگانے تو ضروری سمجھے جاتے ہیں لیکن ماں باپ کے رکھے ہوئے نام کے سوا دوسرے اختیار کردہ یا عطاء کردہ نام لینے ہرگز ضروری نہیں اور اس پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا-