انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 364

۳۶۴ تک ہندو صوبہ بنائے رکھا گیا ہے- چنانچہ باوجود اس کے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ۱۸۳۳ء میں آگرہ کا صوبہ بنانے کی اجازت لے چکی تھی اور یہ فیصلہ تھا کہ بہار کا علاقہ اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا لیکن اس پر عمل نہ ہوا اور آخر لارڈ کرزن (LORD CURZON) نے جن کا حسن سلوک وہ مسلمان جو تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے کی عادی ہیں کسی صورت میں نہیں بھلا سکتے- ۱۹۰۵ء میں مشرقی بنگال کو جدا کر کے مسلمانوں کی ترقی کا راستہ کھولا- مگر ان پر وہ لے دے ہوئی کہ آخر ملک معظم کو دربار دہلی میں اس تقسیم کو منسوخ کرنا پڑا- لیکن وہی غرض جو لارڈ کرزن کے ذہن میں تھی کہ مسلمانوں کو کسی طرح ترقی کا موقع ملے اس طرح پوری کی گئی کہ بہار اور اڑیسہ کو بنگال سے علیحدہ کر دیا گیا اور اس طرح مسلمانوں کا عنصر بنگال میں زیادہ ہو گیا- غرض مسلمانوں کو یہ شکایت ہے اور مجموعی حیثیت میں نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بجا شکایت ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سے اسلامی صوبوں کو حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے- پس صحیح طریق کار یہی ہے کہ ان کی اس دیرینہ اور جائز شکایت کو دور کر کے فتنہ و فساد کے سامانوں کو جس قدر ہو سکے کم کیا جائے- خلاصہ یہ کہ جس قدر حصے ہندوستان کے آئینی نظام سے باہر ہیں ان کو کسی نہ کسی طرح نظام میں شامل کر دیا جائے اور کسی حصہ ملک کو دوسرے سے زائد آزادی نہ دی جائے تا کہ فیڈریشن اصولی طور پر مکمل ہو جائے اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو آزادی میں برابر گو شکل کے لحاظ سے مختلف حکومت جس کی تدریجی ترقی کے سامان پورے طور پر خود ان صوبوں کے قانون اساسی میں موجود ہوں دی جائے- سندھ کو فوراً بمبئی سے الگ کر کے آزاد آئینی صوبہ کی شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور اڑیسہ اور کرناٹک کو بھی الگ الگ صوبے بنا دیا جائے- اسی طرح اگر دہلی کو الگ صوبہ بنایا گیا تو چودہ صوبے ہو جائیں گے اور اگر اسے کسی اور علاقہ کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا تو تیرہ صوبے ہندوستان کے ہو جائیں گے جن میں سے پانچ اسلامی صوبے ہونگے اور ۸ ہندو صوبے-