انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 363

۳۶۳ کے خلاف بمبئی سے ملحق رکھنا کسی طرح جائز نہیں- کہا جاتا ہے کہ اس ملک کی مالی حالت اچھی نہیں اور اس وجہ سے یہ اپنا بوجھ خود نہیں اٹھا سکے گا- نہرو رپورٹ اور سائمن رپورٹ دونوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے مگر میرے نزدیک یہ اعتراض ان کا درست نہیں- اگر آسام اپنا بوجھ آپ اٹھا سکتا ہے تو کیوں سندھ جو پنجاب کے دریاؤں کے دہانے پر ہے اور جو کراچی جیسی بندرگاہ رکھتا ہے ترقی نہیں کر سکتا- اصل بات یہ ہے کہ سندھ کی مالی حالت بمبئی سے ملحق ہونے کی وجہ سے کمزور ہے ورنہ جیسا کہ کئی تجربہ کار انگریزوں اور ہندوستانیوں نے جو اس صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں اپنی تحقیق بتائی ہے یہ صوبہ اب تک بہت ترقی کر چکا ہے بمبئی اور کراچی میں رقابت ہے اور اس کی وجہ سے کراچی کی ترقی کے راستہ میں ہمیشہ روک پیدا کی جاتی رہی ہے- اسی طرح اس کی زمینوں کے آباد کرنے اور اس میں سڑکوں اور ریلوں کے جاری کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہوئی ہے- اسی طرح ملک میں تعلیم پھیلانے کی طرف بھی بہت کم توجہ ہوئی ہے اور جب کسی صوبہ کو ترقی کے سامان نہ دیئے جائیں گے تو وہ ترقی کس طرح کرے گا- بمبئی سے الگ ہوتے ہی خصوصاً اس کی نئی نہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ صوبہ جلد ترقی کر جائے گا اور اپنا بوجھ خود اٹھا سکے گا- اس وقت تک مرکزی حکومت سے اسے اپنے اخراجات کو چلانے کے لئے کچھ قرض دیا جا سکتا ہے- نیز اس کا نظام حکومت ایسا تیار کیا جا سکتا ہے کہ باوجود پوری آزادی کے اس کا خرچ زیادہ نہ ہو- گورنر اور وزراء کی تنخواہیں کم ہوں، وزراء کی تعداد کم ہو، کونسل کے ممبروں کی تعداد کم ہو، شروع میں اسے الگ ہائی کورٹ نہ دیا جائے بلکہ بمبئی یا پنجاب سے عدالتوں کا الحاق رہے، یونیورسٹی چند سال تک نہ بنے، غرض کئی طرح کفایت کر کے اس صوبہ کو جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جا سکتا ہے- باقی رہا وہ قرض جو نہروں کی وجہ سے بمبئی نے اس کیلئے لیا ہے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ نہروں کے اجراء پر زمینوں کی فروخت سے ادا کیا جا سکے گا- میرے نزدیک سب سے اہم بات جسے مدنظر رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں عام احساس ہے کہ جن علاقوں میں مسلمان زیادہ ہیں انہیں یا تو دوسرے علاقوں سے ملحق کر دیا جاتا ہے یا پھر حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے- پنجاب اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان کی مثال ظاہر ہے- پنجاب بہت قریب زمانہ سے حقوق حاصل کر سکا ہے- بنگال کو بھی ناجائز تدابیر سے دیر