انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 365

۳۶۵ باب سوم صوبہ جات کی حکومت سائمن رپورٹ نے چونکہ موجودہ طریق حکومت کو قائم رکھنے کی سفارش کی ہے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں دو علیحدہ علیحدہ باب باندھے ہیں- ایک میں گورنروں کے صوبوں پر بحث کی ہے- اور دوسرے میں چیف کمشنروں کے صوبوں کے متعلق بحث کی ہے- لیکن چونکہ میرے نزدیک یہ اصول ہی غلط ہے کہ ایک فیڈریشن کے مختلف حصے مختلف قسم کے اختیارات رکھتے ہوں کیونکہ فیڈریشن کے معنی ہی یہ ہیں کہ عملا ًیا ذہناً ہر ایک حصہ پورا آزاد ہو اور اپنی طرف سے مرکز کو بعض اختیارات اتحاد ملکی کی خاطر دے اس لئے میں نے پہلے باب میں یہ بتایا ہے کہ سب حِصَص ملک کو ایک ہی سطح پر لے آنا چاہئے اور جو حصے ملک کے گورنروں کے صوبوں سے باہر ہیں، انہیں یا تو کسی دوسرے صوبہ سے ملا دینا چاہئے یا پھر ان کو مستقل صوبہ کی شکل میں تبدیل کر دینا چاہئے- پس ان حالات میں میں نے اس باب کا عنوان ‘’گورنروں کے صوبے’‘ نہیں بلکہ ‘’صوبہ جات کی حکومت’‘ رکھا ہے- اس حکومت کے مختلف حصوں میں سے سب سے پہلے میں ایگزیکٹو (EXECUTIVE)کو لیتا ہوں- ۱- صوبہ جات کی ایگزیکٹو دو شاخی حکومت سائمن رپورٹ نے مختلف تجاویز پر بحث کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دوشاخی (DAIRCHY)حکومت کا طریق ہندوستان سے اب بالکل مٹا دیا جائے- عام حالات کے مطابق میرے نزدیک بھی اب وقت آ گیا ہے کہ ایسا ہی کیا جائے- گو میرے نزدیک دوشاخی حکومت کے خلاف جو الزامات ہیں وہ اس قدر اس طریق حکومت پر وارد نہیں ہوتے جس قدر کہ اس تشکیل پر جو اس طریق حکومت کو ہندوستان میں دی گئی تھی-