انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 362

۳۶۲ سے سیلون کی نسبت بھی زیادہ ہے- اور اگر سیلون کو اس سے الگ رکھا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ برما کو الگ نہ رکھا جائے- پس اس صوبہ کو تو الگ اور آزاد حکومت ملنی چاہئے- اور جب ہم یہ فیصلہ کر دیں تو برما کے سوال کے متعلق ہمیں کسی مزید توجہ کی ضرورت نہیں رہتی- نئے صوبہ جات دوسرا سوال صوبہ جات کی تقسیم کا ہے- جب سے بعض صوبہ جات کو ایک حد تک آزادی حاصل ہوئی ہے ملک کے کئی حصوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی مستقل صوبہ قرار دیا جائے- یہ علاقے مندرجہ ذیل ہیں- سندھ، اڑیسہ، کرناٹک، کیرالا اور آندھرا- نہرو رپورٹ نے کرناٹک اور سندھ کے دعویٰ کی تائید کی ہے اور سائمن رپورٹ نے اڑیسہ اور سندھ کے علاقہ کی- جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تینوں صوبے الگ حکومت دیئے جانے کے قابل ہیں اور ایسا کر دینا چاہئے تا کہ ہندوستان کے صوبوں کی تقسیم کا ایک دفعہ ہی فیصلہ ہو جائے- بقیہ علاقے چھوٹے اور غیر اہم ہیں- ان تین نئے صوبوں کو بنانے سے بمبئی، مدراس اور بنگال اور بہار کے علاقے کاٹنے پڑیں گے- لیکن موخر الذکر علاقے کافی آباد ہیں اور کم سے کم آبادی کے لحاظ سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور بوجہ آبادی کی زیادتی کے ان میں مالی طور پر جلد مضبوط ہونے کی طاقت تسلیم کرنی چاہئے- باقی رہا مدراس، سو اس کا رقبہ تو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور آبادی بھی کافی ہے- دوسرے کرناٹک کو الگ کر کے کورگ کو اس میں شامل کر دیا جائے تو کسی قدر اس علاقہ کی تلافی ہو جائے گی- بمبئی میں سے ایک بہت بڑا حصہ یعنی سندھ نکل جاتا ہے لیکن پھر بھی ایک لاکھ چالیس ہزار مربع میل کے قریب اس کا رقبہ باقی رہ جاتا ہے اور دو کروڑ تیس لاکھ کے قریب آبادی جس سے اس صوبہ کی آبادی اور رقبہ دونوں پنجاب کے رقبہ اور آبادی کے قریب آ جاتے ہیں اور یہ حالت اس صوبہ کے لوگوں کے لئے ہر گز پریشان کن نہیں ہونی چاہئے- ان سب صوبوں میں سے سندھ کا مطالبہ سب سے زبردست ہے- سندھ تاریخ کے لحاظ سے، جغرافیہ کے لحاظ سے، زبان کے لحاظ سے، عادات اور رسوم کے لحاظ سے، آب و ہوا کے لحاظ سے، لباس کے لحاظ سے غرض کسی لحاظ سے بمبئی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا- کبھی بھی تاریخی زمانہ میں یہ علاقہ بمبئی سے متحد نہیں ہوا بلکہ پرانے زمانہ میں تو اسے ہندوستان سے بھی الگ سمجھتے تھے اور اسلامی حملہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے اس ملک پر ہندوستانی راجوں نے حکومت کی ہے- پس جو علاقہ کہ بمبئی سے ہر رنگ میں جدا ہے اسے اس کے اکثر باشندوں کی خواہش