انوارالعلوم (جلد 11) — Page 285
۲۸۵ تو ہندو مصافحہ کرتے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فعل ان میں سے اکثر کا بالکل بناوٹ اور ظاہر داری کے طور پر ہوتا ہے ورنہ دل میں وہ مسلمان کیا اور انگریز کیا سب کو سخت حقارت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ چھو جانے کو غلاظت سے بھر جانے کے برابر سمجھتے ہیں- اور یہ صرف قیاس نہیں بلکہ واقعہ ہے اس کے ثبوت میں میں ہندوؤں کے چوٹی کے لیڈر پنڈت مدن موہن مالویہ کا قول نقل کرتا ہوں- وہ فرماتے ہیں- ‘’میں جب کسی انگریز سے ملتا ہوں تو ملنے کے بعد پانی سے ہاتھ دھو لیتا ہوں’‘- ۱۶؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ ان ہندوؤں کو چھوڑ کر جو مذہب سے بیزار ہیں باقی اصل ہندو صرف دکھاوے کے لئے دوسری اقوام کے لوگوں سے مصافحہ کرتے ہیں ورنہ وہ دل میں اسے ایک ناپاک فعل تصور کرتے ہیں- دوسرا ذریعہ اقوام میں تعلق بڑھانے کا مل جل کر کھانا پینا ہے اس طرح بھی بہت کچھ اختلاف مٹتا ہے لیکن کوئی ہندو جو حقیقی ہندو ہے کبھی مسلمان یا انگریز یا اور کسی قوم کے ہاتھ کا چُھوا ہوا نہیں کھاتا اور جو ہندو انگریزوں کی دعوتوں میں آ کر کھا لیتے ہیں درحقیقت وہ یا تو ہندو مذہب سے بیزار یا ناواقف ہیں اور یا پھر وہ انگریزوں کو دھوکا دیتے ہیں- اس بارہ میں ہندو قوم کا تعصب اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ پنڈت مدن موہن مالویہ جی تو اس مجلس میں جس میں کوئی غیرہندو بیٹھا ہو پانی پینا بھی پسند نہیں کرتے- چنانچہ ایک خاص مجلس (جو گاندھی جی کا روزہ تڑوانے کے لئے جو انہوں نے ہندو مسلم فساد کی بناء پر رکھا تھا( منعقد کی گئی تھی اور جس کی غرض یہ بتائی گئی تھی کہ ہندو مسلمانوں میں شدھی کی وجہ سے جو فساد پیدا ہو گیا ہے اسے دور کیا جائے اس میں مجھ سے بھی خواہش کی گئی تھی کہ میں اپنی جماعت کے نمائندے بھیجوں- ان نمائندوں کا بیان ہے کہ پنڈت مالویہ جی پیاسے بیٹھے رہے اور اس وجہ سے پانی نہ پیا کہ اس مجلس میں کچھ مسلمان بیٹھے ہیں آخر ان کے لئے الگ کمرہ کا انتظام کیا گیا تو انہوں نے وہاں جا کر پانی پیا- جس قوم کے لیڈروں کے تعصب کا یہ حال ہے کیا اس کی نسبت یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھے گی- ہر ایک شخص جو ہندوستان سے واقف ہے جانتا ہے کہ ہندو مسلمان دکاندار سے کبھی کوئی چیز لے کر نہیں کھاتے- بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ صفائی کا خیال ہے حالانکہ ایک غریب مسلمان بھی صفائی میں ہندو سے بہتر ہوتا ہے- ہندو