انوارالعلوم (جلد 11) — Page 286
۲۸۶ مٹھائی بنانے والا جس کی مٹھائی شریف سے شریف ہندو شوق سے خرید کر کھا لیتا ہے ایسا غلیظ ہوتا ہے کہ شاید اس کے برابر غلیظ انسان تلاش کرنا مشکل ہوگا اور اس کے برتنوں کو دیکھ کر گھن آتی ہے- بسا اوقات کتے انہیں چاٹ جاتے ہیں اور وہ اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرتا لیکن جب ایک مسلمان پاس سے بھی گذر جاتا ہے تو وہ ‘’دور رہنا، دور رہنا’‘ کا شور مچا دیتا ہے اور اس فعل کی بنیاد ہر گز مذہب پر نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہندوؤں کا اقرار ہے یہ تدبیر صرف دوسری اقوام کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے اور ہندوؤں کی دولت بڑھانے کے لئے کی گئی ہے- چنانچہ ہندوؤں کا ایک مشہور مذہبی اخبار ‘’مسافر آگرہ’‘ چھوت چھات کے متعلق لکھتا ہے-: ‘’اگر یہ چُھوت چھات نہ ہوتی تو آج کسی قسم کی تجارت بھی ہندوؤں کے ہاتھ میں نظر نہ آتی- ہم کہتے ہیں اگر ہماری تجارت کی کسی طاقت نے حفاظت کی تو وہ طاقت اس بائیکاٹ کی تھی-’‘ ‘’اس تحریک سے ہندو قوم کو جو زبردست فوائد حاصل ہوئے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ جن میں کسی قسم کے مبالغہ کی گنجائش ہو- مثال کے طور پر آپ سب سے پہلے تجارت ہی کو لے لیجئے- آج ملک کی تمام خوردنی اور عمدہ اشیاء کی تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے’‘- ۱۷؎ ایک مذہبی اخبار کا یہ بیان بالکل واضح کر دیتا ہے کہ چُھوت چھات کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اقتصادی بائیکاٹ کی ہی ایک شکل ہے- اس کی اصل غرض یہ ہے کہ دوسری اقوام کے بائیکاٹ پر پردہ پڑا رہے اور انہیں یہ کہہ کر خاموش کرایا جا سکے کہ ہم جو تم سے چیزیں نہیں خریدتے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارا مذہب اس سے روکتا ہے- اس بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام ملک میں کھانے کی دکانیں ہندوؤں کی ہیں اور مسلمانوں کی قریباً نہ ہونے کے برابر ہیں- اور ہندوؤں کی اس چھوت چھات کی وجہ سے سٹیشنوں پر بھی کھانے کا ٹھیکہ عام طور پر ہندوؤں کو دیا جاتا ہے اس خیال سے کہ مسلمان ہندوؤں کے ہاتھ کا کھا لیتے ہیں اور ہندو مسلمان کے ہاتھ کا نہیں کھاتے- اب اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ فی کس سال میں ایک روپیہ کی مٹھائی یا کھانا بازار سے خریدا جا سکتا ہے- یہ اندازہ درحقیقت بہت تھوڑا ہے تو بھی بالغ مسلمانوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال مسلمانوں کی جیب سے چار کروڑ روپیہ ہندوؤں کو مل جاتا ہے