انوارالعلوم (جلد 11) — Page 284
۲۸۴ آئندہ نقصان پہنچانا چاہتی ہے تو اس صورت میں اقلیت کو اکثریت کے سپرد کر کے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ آہستہ آہستہ رواداری کی روح پیدا ہو جائے گی- میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیت اور اکثریت کے تعلقات نہایت اہم ہیں اور اکثریت کا تعلق اقلیت سے گذشتہ تجربہ اور آئندہ ارادوں کی بناء پر ایسا نظر آتا ہے کہ اسے اکثریت کے سپرد نہیں کیا جا سکتا- ہندوؤں کا اقلیتوں سے سلوک ہندوستان میں اس وقت اکثریت ہندو قوم کی ہے اور اس کے مقابلہ میں مسلمان، ادنیٰ اقوام اور انگریز اینگلوانڈین وغیرہ تعداد میں کم ہیں- ان میں سے ادنیٰ اقوام کا سوال تو اتنی دفعہ انگلستان کے لوگوں کے سامنے آ چکا ہے کہ اس کے متعلق میں کچھ زیادہ لکھنا پسند نہیں کرتا لیکن میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہندو دوسری اقلیتوں سے کیا سلوک کرتے ہیں تا کہ ان لوگوں کو جو واقف نہیں ہیں یہ معلوم ہو جائے کہ ہندو لوگ دوسری اقلیتوں سے بھی جہاں تک ان کی طاقت ہے اچھوت اقوام کا سا ہی سلوک کرتے ہیں اور جب تک ان کی یہ حالت قائم ہے اس وقت تک کوئی عقلمند قوم ان پر اعتبار نہیں کر سکتی- سب سے پہلے تو میں ایک دوسرے سے میل ملاقات کے معاملہ کو لیتا ہوں- دنیا میں محبت اور رواداری قائم کرنے کا اصل ذریعہ یہی ہے کہ افراد آپس میں ملتے جلتے رہیں- ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے سے دلوں کی کدورت دور ہوتی رہتی ہے اور ملنے میں ایک دوسرے کے قلب کی صفائی کا اظہار کرنے کے لئے بہترین طریق دنیا میں مصافحہ کا ہے- تمام اقوام ایک دوسرے سے ملتے وقت مصافحہ کرتی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مصافحہ کا طبیعت پر ایک خاص اثر ہوتا ہے اور یہ گویا ادنیٰ سے ادنیٰ ذریعہ ایک دوسرے سے اظہار محبت کا ہوتا ہے لیکن ہندو اپنی روایات میں اس قدر محصور ہے کہ دوسری اقوام سے اتنے سلوک کا بھی روادار نہیں- جب آپ کسی ہندو کو دیکھیں گے تو وہ خواہ آپ کا کیسا ہی واقف ہو اس کی تمام تر کوشش یہ ہوگی کہ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایک غیر قوم کے آدمی سے مصافحہ کرنے سے نجات حاصل کرے- وہ ہاتھ جوڑے گا سامنے جھک کر گھٹنوں کو ہاتھ لگا لے گا لیکن جہاں تک اس کا بس چلے گا اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں لگائے گا کیونکہ اس کے نزدیک ایسا فعل اسے ناپاک کر دیتا ہے- شاید انگریزوں کو یہ عجیب بات معلوم ہوگی اور وہ خیال کریں گے کہ ہم سے