انوارالعلوم (جلد 11) — Page 281
۲۸۱ کی رومن کیتھولک اکثریت جب پراٹیسٹنٹ (PROTESTANT) اقلیت کے خلاف قواعد بنا رہی تھی تو وہ ہر گز ‘’ڈیماکریسی’‘ کی عامل نہیں تھی- ‘’ڈیماکریسی’‘ اس اکثرت کی حکومت کو کہتے ہیں جس کا جتھا ان اصول پر بنا ہو جو حکومت سے متعلق ہیں- وہ اکثریت جس کا جتھا ملکی سیاست پر نہیں بلکہ کسی خاص مذہبی یا قومی فوائد کی بناء پر بنا ہو اس کی حکومت کو جمہوری حکومت نہیں کہا جا سکتا وہ فرقہ وار حکومت ہے- ڈاکٹر سی- ایف- سٹرانگ STRONG(۔F۔)C ایم- اے- پی- ایچ- ڈی ‘’ڈیماکریسی’‘ کی تعریف یہ کرتے ہیں- ‘’ڈیماکریسی سے ہماری مراد اس قسم کی حکومت ہے جس میں کہ حکومت کا اختیار قانوناً کسی خاص قوم کو نہ دیا گیا ہو- بلکہ تمام ملک کو بہ حیثیتِ مجموعی دیا گیا ہو-۱۴’‘؎ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر سٹرانگ نے یہ شرط لگائی ہے کہ حکومتِ قانوناً کسی فرقہ کے سپرد نہ ہو لیکن قانوناً سپرد ہونے یا عملاً ایسا ہونے میں کوئی فرق نہیں- اگر گورنمنٹ قانوناً کسی خاص قوم کے سپرد ہوگی تو ہم کہیں گے کہ یہ قانوناً ڈیماکریسی نہیں اگر عملا ایسا ہوگا تو ہم کہیں گے کہ وہ حکومت عملاً ڈیماکریسی نہیں- بہرحال حقیقی ڈیما کریٹک حکومت وہی ہے جس میں حکومت اس اکثریت کے قبضہ میں ہو جس کا جتھا سیاسی امور کی بناء پر بنا ہو نہ کہ قومی یا مذہبی امور کی بناء پر- لارڈ برائس ڈیما کریسی کے متعلق لکھتے ہیں-: ‘’جس طرح دوسری حکومتیں اس امر کی محتاج ہیں اسی طرح جمہوریت بھی اس امر کی محتاج ہے کہ فردی آزادی کا اس میں پوری طرح خیال رکھا جائے-۱۵’‘؎ پس کوئی حکومت جس میں افراد کے حقوق محفوظ نہ ہوں ہر گز ڈیما کریسی نہیں کہلا سکتی- اور ڈیما کریسی کے ہر گز یہ معنی نہیں کہ اس کے ذریعہ اقلیتوں کی قربانی کی جائے- یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی ڈیماکریسی تحریر شدہ یا غیر تحریر شدہ آئین حکومت کے بغیر نہیں ہو سکتی- اور آئین حکومت کی ایک بہت بڑی غرض یہ ہوتی ہے کہ افراد یا جماعتوں کے حقوق کو تلف ہونے سے بچایا جائے پس اسی نقطہ نگاہ سے ہمیں ہندوستان کی اقلیتوں کے سوال کو دیکھنا چاہئے- اگر تو ہندوستان کی اقلیتیں سیاسی اور تمدنی ہیں اور اکثریت بھی سیاسی اور تمدنی ہے تو بے شک ڈیماکریسی کے ماتحت اقلیت کو اکثریت پر قربان ہو جانا چاہئے اور اکثریت کو حکومت کا پورا حق ہونا چاہئے- لیکن اگر اس کے برخلاف اکثریت سے مراد ہندوستان میں ایک