انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 282

۲۸۲ خاص قوم اور مذہب کی اکثریت ہے تو وہ اکثریت ڈیماکریسی کے نقطہ نگاہ سے اکثریت نہیں بلکہ ایک فرقہ وارانہ جماعت ہے جسے کوئی حق نہیں کہ اقلیت پر بغیر حد بندی کے حکومت کرے- اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے کہ اکثریت اقلیت پر بغیر حد بندی کے حکومت کرنے کی مجاز ہے تو اس سے دنیا کی تمام علمی ترقی رک جاتی ہے- ذہنی ترقی کی ہر نئی رو اور ہر جدید علم پہلے معدودے چند افراد کی توجہ کو ہی کھینچتا ہے اور اکثریت اس کی مخالف ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی جانی دشمن ہوتی ہے- اگر اکثریت کو غیر محدود حکومت کرنے کا اختیار ہو تو پھر وہ مختلف مظالم جو دنیا میں مذہب یا فلسفہ کے نام پر ہوتے چلے آئے ہیں انہیں جائز اور درست کہنا ہوگا لیکن کبھی بھی فطرت انسانی نے ان کے جواز کو قبول نہیں کیا- اگر اس اصل کو قبول کر لیا جائے تو دنیا کی تمام علمی، اخلاقی اور مذہبی ترقی رک جاتی ہے- یہ کبھی نہیں ہوا کہ دنیا ایک دن سوتے سوتے اٹھے اور اس کے اکثر افراد ایک نئے مذہبی، فلسفی یا تمدنی یا علمی نکتے کے قائل ہو گئے ہوں- ہر نئی تحقیق اقلیتوں میں نشوونما پاتی رہی ہے اور پاتی رہے گی پس دنیا کی نجات اقلیتوں کی حفاظت میں ہے- اقلیتوں کے حقوق کو نظر انداز کر دو تو دنیا تمام علمی اور اخلاقی ترقیوں سے محروم ہو جائے گی- پھر جو لوگ اقلیت کو ا کثریت کے رحم پر چھوڑ دینے کا مشورہ دیتے ہیں وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہر ایک اقلیت ایک قسم کی نہیں ہوتی اور نہ ہر ایک چیز قربان کر دینے کے قابل ہوتی ہے- اس دنیا میں بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو کسی صورت میں قربان نہیں کی جا سکتیں- اگر گلیلیو (GALILEO) اپنے وقت کی اکثریت سے ڈر کر سیاروں کی حرکات کے مسئلہ کو چھوڑ دیتا تو دنیا آج کہاں ہوتی؟ اس قسم کا مشورہ دینے والوں کو پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ ہندوستان کی اقلیتوں کی بنیاد کس امر پر ہے- اگر ان کی بنیاد ٹیرف ریفارم (TARIFF REFORM) یا انکم ٹیکس کے اصول میں اختلاف رکھنے پر ہے تو بے شک انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن جب کہ ان کی بنیاد مذہب پر ہے جسے آزادی اور وطنیت سے بھی زیادہ متبرک سمجھا جاتا ہے اور اگر مذہب کوئی چیز ہے تو اسے ایسا ہی سمجھنا چاہئے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ اقلیت ایسی حکومت کو برداشت کرے جو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے اس پر ظلم کرتی ہو- یا ایسے قوانین پاس کرتی ہو جس سے اس کی غرض اس مذہبی اقلیت کے افراد کو دق کر کے ملک سے نکل جانے یا اکثریت کے مذہب کو قبول کرنے یا دائمی طو رپر ایک ادنیٰ پوزیشن قبول کرنے پر مجبور کرنا ہو-