انوارالعلوم (جلد 11) — Page 280
۲۸۰ خصلتوں کا گھر بنا دیا ہے- اس اختلاف کی موجودگی میں سیلف گورنمنٹ بجائے مفید ہونے کے ملک کے لئے سخت مضر ہو سکتی ہے- بعض لوگ تو اس مشکل کا حل یہ بتاتے ہیں کہ جب تک یہ حالت دور نہ ہو جائے ہندوستان کو کسی قسم کی آزادی دی ہی نہ جائے لیکن جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں یہ علاج صحیح نہیں- اگر ہندوستان کو آزادی نہ ملی تو یہ اختلاف دور ہو ہی نہیں سکتا اور صورت حالات بد سے بد تر ہوتی چلی جائے گی- کیا ڈیما کریسی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے منافی ہے؟ بعض دوسرے لوگ اس کا یہ علاج بتاتے ہیں کہ یہ کوئی مرض ہی نہیں اس کو مرض سمجھنا ہی مرض کو بڑھا رہا ہے- اگر ہندوستان ‘’ڈیماکریسی’‘ (DEMOCRACY) جس کے معنی اکثریت کی حکومت کے ہیں چاہتا ہے تو پھر اسے اقلیتوں کا سوال نظر انداز کر دینا چاہئے کیونکہ ‘’ڈیماکریسی’‘ کی غرضوغایت ہی یہ ہے کہ اکثریت حکومت کرے- اقلیت کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اکثریت کے ساتھ وابستہ کرے یا پھر خود اکثریت بننے کی کوشش کرے مگر ‘’ڈیماکریسی’‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ مطالبہ کرنا کہ اکثریت کو حکومت نہ کرنے دو اور اسے پابندیوں میں جکڑ دو گویا ایک طرف ‘’ڈیماکریسی’‘ کے اصول کو رد کرنا ہے تو دوسری طرف فتنہ و فساد کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھولنا ہے- عام طور پر یہ سوال بعض انگریزوں یا دوسرے مغربی لوگوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے اور سوال کرنے والوں میں سے بعض کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ نہ کریں اس میں ان کا نقصان ہے- اور بعض یہ اعتراض محض ہندوستان کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے کرتے ہیں- میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ خیال ‘’ڈیما کریسی’‘ کے مفہوم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے- ہر اکثریت کی حکومت کو ‘’ڈیماکریسی’‘ نہیں کہہ سکتے بلکہ اس اکثریت کی حکومت کو ‘’ڈیماکریسی’‘ کہتے ہیں جو خالص ملکی فوائد کو مدنظر رکھتی ہے نہ کہ کسی خاص قوم یا عقیدہ کے لوگوں کے فوائد کو اگر ایک ملک میں ایک قوم یا ایک مذہب کے دس لاکھ آدمی بستے ہوں اور دوسری قوم اور دوسرے مذہب کے ایک لاکھ اور وہ دس لاکھ اپنی قوم یا اپنے مذہب کے لوگوں کے فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کریں تو یہ ہر گز ‘’ڈیماکریسی’‘ نہیں کہلائے گی- انگلستان