انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 114

۱۱۴ ذریعہ نکلے۔غرض ایک طرف تو قرآن نے ایسی روحانی باتیں کیں جو دنیا پہلے نہ جانتی تھی اور دوسری طرف ایسے دنیوی علوم ظاہر ہوئے جن کے مقابلہ میں پہلے علوم ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔یہ تین پیشگوئیاں قرآن کریم کے الٰہی کتاب ہونے کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔قرآن کریم کی افضلیت کی ایک اور شہادت مگر ان پیشگوئیوں کے علاوہ قرآن کریم اپنی افضلیت کے لئے ایک چوتھی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۱۹؂ اس کتاب کے معارف اور حقائق صرف انہی لوگوں پر کھل سکتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے مقرب اور اس کی طرف سے پاک کئے گئے ہوں۔دیکھو قرآن اسی زبان میں آیا جسے لوگ جانتے تھے۔اس کے الفاظ وہی تھے جو لوگ استعمال کرتے تھے اور عربی جاننے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں مگر ان پر قرآن کے معارف نہیں کھلتے۔معارف انہی پر کھلتے ہیں جو اس کے خدا کا کلام ہونے پر ایمان لاتے اور اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا کرتے ہیں، کیا کوئی انسان اپنی تصنیف کردہ کتاب کے متعلق یہ شرط عائد کرسکتا ہے کہ میں نے جوکتاب تصنیف کی ہے اس کے مطالب وہی سمجھے گا جو خدا تعالیٰ کا مقرب ہوگا۔کوئی انسان اپنی تصنیف کے متعلق اس قسم کی شرط نہیں پیش کرسکتا۔پس جو کتاب معروف زبان میں ہو مگر اس کے مطالب کاانکشاف دماغی قابلیتوں اور علوم ظاہری کی بجائے تعلق باﷲ کے ساتھ وابستہ ہو۔اس کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ورنہ اس کے علوم کا ظہور خالی علم و فکر پر کیوں نہ ہوتا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ جس قدر الہامی کتب پائی جاتی ہیں ان کے مطالب ان زبانوں کے جاننے والوں پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کے متعلق یہ شرط ہے کہ خواہ ظاہری طور پر کوئی بڑا عالم نہ ہو لیکن اﷲ تعالیٰ سے سچا تعلق رکھتا ہو تو اس پر اس کے معارف کھل جائیں گے۔چنانچہ جہاں تورات انجیل وید اور ژند اوستا کے علوم ظاہری عالموں کے ہاتھوں میں ہیں وہاں قرآن کریم کے علوم صرف روحانی علماء اور اولیاء کے ہاتھ سے ہی کھلتے چلے آئے ہیں۔جیسے سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ، حضرت محی الدین صاحب ابن عربیؒ، مولانا رومؒ، امام غزالیؒ، سید احمد صاحب سرہندیؒ، شہاب الدین صاـحب سہروردیؒ، شاہ ولی اﷲ صاحبؒ،یہی لوگ قرآن کریم کے علوم کو سمجھنے اوردوسروں کو سمجھانے کے قابل ہوئے ہیں۔بے شک