انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 115

۱۱۵ ظاہری علوم رکھنے والے بعض علماء نے بھی قرآن کریم کی تفسیریں لکھی ہیں۔لیکن انہوں نے بڑی بڑی ٹھوکریں بھی کھائی ہیں جو لوگوں کے لئے گمراہی کا موجب ہوئی ہیں لیکن صوفیاء جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے ان کا بڑی عمدگی سے رد کیاہے۔روحانی علماء کے ذریعہ قرآن کریم کے مشکل مقامات کا حل مثلاً قرآن کریم میں حضرت یونس ؑ کے متعلق آتا ہے۔وَذَالنُّوْنِ اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ ۲۰؂یعنی یونس کو بھی یاد کرو جب وہ غضب کی حالت میں چلا گیا اور اسے یہ یقین تھا کہ ہم اسے تنگی میں نہیں ڈالیں گے۔اس آیت میں لَنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ کے جو الفاظ آتے ہیں ان کے متعلق بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یونس نے یہ خیال کیا کہ خدا اسے گرفتار نہیں کر سکتا۔مگر حضرت محی الدین ابن عربی ؒ اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں کہلَنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ کے معنی ہیں لَنْ نُضِیِّقَ عَلَیْہِ۔۲۱؂ یعنی حضرت یونس علیہ السلام کویقین تھا کہ اﷲ تعالیٰ انہیں تنگی میں نہیں ڈالے گا۔بلکہ ہر مشکل اور مصیبت میں ان کا ساتھ دے گا۔غرض عصمت انبیاء کے متعلق ظاہری علماء نے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔لیکن صوفیاء اس سے محفوظ رہے ہیں بلکہ انہوں نے عصمت انبیاء ثابت کرنے کے لئے بڑی لطیف بحثیں کی ہیں۔پیدائش عالم کے متعلق ابن عربی ؒ کا ایک کشف اسی طرح دنیا کی پیدائش کے متعلق حضرت محی الدین صاحب ابن عربی ؒ لکھتے ہیں کہ مجھے کشفی طور پر معلوم ہوا کہ دنیا کئی لاکھ سال میں مکمل ہوئی ہے اور مکمل ہونے کے سترہ ہزار سال کے بعد انسان کی پیدائش ہوئی ہے۔آج لوگ کہتے ہیں کہ علم جیالوجی سے یہ امر ثابت ہوا ہے۔حالانکہ حضرت محی الدین صاـحب ابن عربیؒ نے پہلے سے یہ بات اپنی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔وہ اپنی کتاب فتوحات مکیہ جلد اول کے ساتویں باب میں انسان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ھَوَ اٰخِرُ جِنْسٍ مَوْجُوْدٍ مِنَ الْعَالَمِ الْکَبِیْرِ وَاٰ خِرُ صِنْفٍ مِنَ الْمُوَلَّدَاتِ۔۲۲؂ یعنی انسان عالم کبیر کی آخری جنس اور مولّدات ثلثہ (جمادات ، نباتات اور حیوانات) میں سے آخری قسم ہے۔اور مولّدات ثلثہ کی پیدا ئش کا زمانہ وہ اکہتر ہزار سال بتاتے ہیں۔