انوارالعلوم (جلد 11) — Page 113
۱۱۳ مخاطب عالم ہوں جاہل نہ ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کے نازل ہونے کے بعد علم کا زمانہ آجائے گا۔لوگ مختلف علوم کے ماہر ہوں گے۔مگر باوجود اس کے یہ کتاب دنیا میں قائم رہے گی اور پڑھی جائے گی۔اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکے گا۔غرض اس پیشگوئی کے بعد کیا عرب اور کیاد وسرے ممالک ان میں علم کا اتنا رواج ہوا کہ اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں مل سکتی۔نئے نئے علوم کی ترویج؎ تیسری پیشگوئی یہ کی کہ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ خدا کا نام لے کر اس کتاب کو پڑھ جو انسان کو وہ وہ باتیں سکھانے والا ہے جنہیں اس سے پہلے وہ ہر گز نہیں جانتا تھا۔گو یہ عام بات ہے کہ جہاں تحریر کی کثرت ہوگی وہاں علوم کا رواج ہوگا۔اور لوگ نئی نئی باتیں بیان کریں گے۔مگر لغو تحریریں بھی ہو سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اب میں انسانوں کو وہ باتیں سکھاؤں گا جو خواہ دینی ہوں یا دنیوی، دنیا اس سے پہلے نہیں جانتی تھی۔چنانچہ قرآن کریم نے ایسے علوم بتائے جو نہ تو رات میں موجود ہیں نہ انجیل میں اور نہ کسی اور کتاب میں۔پھر دوسرے علوم بھی اس کے ذریعہ سے کھلنے شروع ہوئے۔عرب میں شعر وں کے قواعد ، علم معانی، بیان اور صرف و نحو وغیرہ کے اصول و قواعد کوئی نہ تھے۔یہ علوم صرف مسلمانوں نے رائج کئے۔عرب کے جاہل لوگوں کی ساری کائنات لوٹ مار تھی۔مگر قرآن کریم نازل ہونے کے بعد جن علوم سے وہ ہزاروں سال سے ناآشنا چلے آرہے تھے ان سے وہ آشنا ہوئے اور وہ ساری دنیا کے علوم کے حامل بن گئے۔یونانی علوم کی کتابوں کے انہوں نے ترجمے کیے اور پھر ان کے ترجمے یورپ میں گئے۔سپین میں جب مسلمان پہنچے تو انہوں نے ان کتابوں کے ترجمے کئے اور پھر ان ترجموں سے یورپ نے فائدہ اٹھایا۔غرض عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ کے بعد ایسا تغیر شروع ہوا کہ وہ باتیں جو دنیا کو پہلے معلوم نہ تھیں ساری دنیا میں پھیل گئیں اور مسلمانوں نے ایسے علوم ایجاد کئے جو پہلے نہ تھے۔مثلاً علم الاخلاق، علم النفس، سائنس کے متعلق علوم، علم قضا ان سب علوم کے متعلق نئے اصول تجویز کئے۔اسی طرح مسلمانوں نے علم روایت نکالا، علم کلام ایجاد کیا، علم قضا اور حـکومت کے قوانین مرتب کئے۔پہلے رومن لاء جاری تھا مگر خود یورپین مدبروں نے تسلیم کیا ہے کہ اسلامی لاء اس سے بہتر ہے۔حفظان صحت، علم تصوف او رالجبرا کے علوم بھی مسلمانوں کے