انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 421

۴۲۱ مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں- ہاں یہ شرط ہو جانی چاہئے کہ کوئی صوبہ فیڈریشن سے آزاد نہیں ہو سکتا- اور یہ بھی ضروری نہیں کہ صرف وہی اختیارات مرکزی حکومت کو دیئے جائیں جو امریکہ میں دیئے گئے ہیں بلکہ ان سے زائد اختیارات دیئے جا سکتے ہیں- ہاں اس امر کا لحاظ رکھنا ہو گا کہ صوبہ جات کے اندرونی نظم و نسق میں خلل نہ آئے- مسلمانوں کی موت و حیات کا سوال میں سمجھتا ہوں کہ میں یہ بات ثابت کر چکا ہوں کہ فیڈریشن کا سوال مسلمانوں کے لئے موت اور حیات کا سوال ہے- اور یہ بھی کہ فیڈریشن کے اصول کو تسلیم کر لینے میں ہندؤوں کا کوئی نقصان نہیں اور سیاستا اس قسم کی حکومت میں کوئی خرابی نہیں- اور اس لئے اس حصہ کو ان فقرات پر ختم کرتا ہوں کہ مسلمان یاد رکھیں کہ ان کے سب مطالبات میں سے وزنی مطالبہ یہی ہے- اگر اسے وہ حاصل کر لیں تو باقی مطالبات میں کوئی نقص رہ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں- لیکن اس مطالبہ میں اگر کوئی نقص رہ گیا تو پھر ان کے لئے کہیں ٹھکانا نہ ہو گا- اللہ تعالیٰٰ انہیں ہر ایک شر سے محفوظ رکھے- مسلمانوں کا دوسرا مطالبہ، تین نئے اسلامی صوبوں کا قیام دوسرا مطالبہ مسلمانوں کا یہ تھا کہ تین نئے اسلامی صوبے قائم کئے جائیں- کہ اس طرح کہ صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو وہی حقوق دیئے جائیں جو دوسرے صوبوں کو حاصل ہیں- اور سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے ایک کامل طور پر با اختیار صوبہ بنا دیا جائے- نہرو کمیٹی نے اس مطالبہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا ہے کہ صوبہ سرحدی کو دوسرے صوبوں کی طرح حقوق دے دیئے جائیں- بلوچستان کے متعلق ایک چیستان سی ہے- بعض حﷺ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ حق آزادی اسے ملے گا- لیکن جس جگہ حق کا فیصلہ کیا گیا ہے وہاں اس صوبہ کا ذکر نہیں ہے- نہ معلوم بھول گیا ہے یا جان کر چھوڑ دیا گیا ہے- ایک صوبہ کا صوبہ بھول جانا ایک ایسی کمیٹی کے لئے جو خاص سیاسی امور کے تصفیہ کے لئے مقرر ہوئی تھی، قابل تعجب ضرور ہے- سندھ کی علیحدگی کے رستہ میں شرائط کے روڑے سندھ کے متعلق نہرو رپورٹ ان شرائط سے آزادی کا وعدہ