انوارالعلوم (جلد 10) — Page 422
۴۲۲ کرتی ہے- کہ(اول) اس کی مالی حالت ایسی ثابت ہو جائے کہ وہ اپنا بوجھ اٹھا سکے-۳۹؎ یا اس کے باشندے یہ اقرار کر لیں کہ وہ حکومت کا بوجھ اٹھا لیں گے-۴۰؎ بشرطیکہ وہ بوجھ نہرو کمیٹی کی رپورٹ کرنے والوں کے ارادوں کے مطابق ہو-۴۱؎ (دوم) کوئی اور روک پیدا نہ ہو جائے جس کا ازالہ نا ممکن ہو-۴۲؎ (سوم) وہ یہ بھی اشارہ کرتے ہیں- اور پھر اس اشارہ کو چھپانا چاہتے ہیں کہ سندھ کو علیحدہ صوبہ بنانے کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ وہ پوری طرح آزاد صوبہ ہو وہ لکھتے ہیں کہ-: ‘’ہمیں یہ بھی کہہ دینا چاہئے کہ ایک صوبہ کی علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ ضرور اس کی اقتصادی زندگی بھی علیحدہ کر دی جائے- نہ اس کے یہ معنی ہیں کہ سب اعضائیگورنمنٹ اس کے لئے نئے بنائے جائیں- مثلاً یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ہائیکورٹ ایک سے زیادہ صوبوں کا کام کرے’‘- ۴۳؎ سندھ کبھی آزاد نہ کیا جائے گا اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبہ کو پورا کرنے کا نتیجہ تو یہ ہو گا کہ پنجاب، بنگال، سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحدی کو کامل آزادی حاصل ہو جائے گی- لیکن نہرو رپورٹ کے مطابق کم سے کم بنگال میں اسلامی عنصر کو کمزور کر دیا جائے گا- )جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا) صوبہ سرحدی کو کاملآزادی ملے گی- بلوچستان کے متعلق ان کی رائے ظاہر نہیں ہوئی- سندھ کی آزادی مشتبہ ہے، کیونکہ ان کے مطالبات ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے نہایت قوی شبہ ہوتا ہے کہ سندھ کبھی بھی آزاد نہیں کیا جائے گا- اور اگر آزاد کیا جائے گا تو اس صورت سے کہ اس کی آزادی صرف نام کی ہو گی- اول تو ان کا یہ قول کہ کوئی غیر معمولی سبب پیدا نہ ہو جائے تو سندھ کو آزاد کرنے میں کوئی روک نہ ہو گی- ایک اشارہ ہے ہندو ایجیٹیٹر(AGITATOR) کو کہ اس وقت شور نہ مچاؤ- سندھ کو آزادی تمہارے ہی بھائیوں کے اختیار میں ہو گی- اور وہ اس میں پوری روک ڈالیں گے- میں اسے ایک خدا پرست انسان کا اظہار عقیدت نہیں قرار دے سکتا- جو ہر آئندہ کے کام میں خدا تعالیٰ کی قدرت کے ظہور کا راستہ کھلا رکھتا ہے- اور کسی آئندہ کی بات پر یقینی اور قطعی رائے ظاہر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا- یہ انشاء اللہ کی قسم کا جملہ نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس مقام کے سوا دوسرے مقامات پر بھی وہ ایسے ہی جملے استعمال کرتے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے- وہ کرناٹک کی علیحدگی کے متعلق اس رضا برقضا