انوارالعلوم (جلد 10) — Page 402
۴۰۲ ہو وہاں کم سے کم ایک تو اپیل کا حق کھلا رکھا جائے دوسرے اس امر کا خیال رکھا جائے کہ اقلیت کے خاص معاملات اس کی اپنی کمیٹیوں کے ذریعہ سے طے پائیں- اور ملازمتوں میں کمسے کم اس کے حق کے مطابق اسے نیابت حاصل ہو- اور دوسرا انتظام یہ کیا جائے کہ قانوناساسی کا وہ حصہ جو اقلیت کے حقوق سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس وقت تک نہ بدل سکے جب تک کہ خاص شرائط کے ماتحت خود اقلیت بھی اس کے بدلنے پر راضی نہ ہو- مسلمانوں کے مطالبات اور نہرو کمیٹی کی رپورٹ پر تفصیلی نظر جو کچھ میں اس وقت لکھ چکا ہوں- میرے نزدیک ایک سیاست سے واقف شخص کے لئے کافی ہے اور وہ اس کی روشنی میں سمجھ سکتا ہے کہ نہرو کمیٹی کی رپورٹ ملک کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتی اور اس کے تسلیم کر لینے میں مسلمانوں کو سخت نقصان ہے- لیکن چونکہ عام طور پر لوگ سیاسی امور سے واقف نہیں- نہ انہیں اس قدر دلچسپی ہوتی ہے کہ وقت خرچ کر کے اصول کو فروغ پر چسپاں کریں- اس لئے میں مسلمانوں کے مطالبات اور نہرو رپورٹ پر ایک تفصیلی نظر بھی ڈالنی ضروری سمجھتا ہوں- مسلمانوں کے مطالبات میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات مندرجہ ذیل ہیں- ۱- ہندوستان کی آئندہ حکومت فیڈرل اصول پر ہو، یعنی صوبہ جات سے مرکزی حکومت کو اختیار ملیں نہ کہ مرکزی حکومت سے صوبہ جات کو- اور سوائے ان امور کے جن میں مشترکہحکومت کا کام چلانے کیلئے صوبہ جات اپنے اختیارات مرکزی حکومت کو دیں- باقی سب اختیارات صوبہ جات کے پاس رہیں- ۲- صوبہ سرحدی کو ویسی ہی بااختیار حکومت دی جائے- جیسی کہ اور صوبوں کو اور سندھ اور بلوچستان کو آزاد کر کے انہیں بھی ویسی ہی آزاد حکومت دی جائے- ۳- ہر قوم کو اس کی تعداد کے مطابق حق نیابت مقامی مجالس میں دیا جائے- سوائے اس صورت کے کہ کسی قوم کی تعداد دوسری قوم کے مقابل پر بہت تھوڑی ہو- اس صورت میں اس کی اصل تعداد سے کسی قدر زائد حق اسے دے دیا جائے- ۴- مرکزی حکومت میں مسلمانوں کو ان کے موجودہ حق سے کسی صورت میں کم نہ دیا