انوارالعلوم (جلد 10) — Page 401
۴۰۱ اقلیتوں کی حفاظت کی کیا تدبیر کی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں- نہرو کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق نہ تو مسلمانوں کو ان صوبوں میں جن میں ان کی اکثریت ہے خود اختیاری حکومت دی گئی ہے جس طرح کہ روتھینیا میں لعل رشینز کو دی گئی ہے، نہ ان صوبوں میں جن میں مسلمانوں کی اقلیت ہے اس امر کا انتظام کیا گیا ہے کہ تعلیم اور مذہب اور تمدن کے اصول کا طے کرنا مسلمانوں کی کمیٹیوں کے قبضہ میں رکھا جائے- نہ اس امر کا انتظام کیا گیا ہے کہ ان صوبوں کو جہاں آج کل مسلمانوں کی اکثریت ہے آئندہ ایسی شکل میں نہ بدل دیا جائے گا کہ مسلمان تھوڑے رہ جائیں- اور نہ پھر یہ انتظام کیا گیا ہے کہ جو مطالبات مسلمانوں کے آج ناقص طور پر منظور ہوئے ہیں، کم سے کم وہی آئندہ محفوظ رہیں گے- بلکہ قانون اساسی کو بدلنے کے لئے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ دو تہائی ممبروں کی رائے سے قانون اساسی بدلا جا سکتا ہے- ۳۷؎اور قانون اساسی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو پچیس فیصدی ممبریاں ملیں گی- ۳۸؎ پس اس کے یہ معنی ہوئے کہ گو مسلمانوں میں سے ایک بھی رائے ہندو حاصل نہ کر سکیں بلکہ پانچ چھ فیصدی تک ہندو ممبر بھی اگر ہندوؤں کے مخالف ہو جائیں، تب بھی وہ جس وقت چاہیں، ان حقوق کو جنہیں وہ اس وقت دے رہے ہیں واپس لے سکتے ہیں اور کون کہہ سکتا ہے کہ ہندوؤں کے لئے دو تہائی ووٹ جمع کر لینا مشکل ہوگا- قانون اساسی کے بدلنے کے لئے پونے ستاسٹھ فیصدی ووٹوں کی ضرورت ہے- اور ہندو قوم کو نہرو رپورٹ کے مطابق پچھترفیصدی ووٹ حاصل ہونگے- پھر ان کے لئے یہ بات کیا مشکل ہے کہ جب چاہیں قانون اساسی کو بدل دیں اور مسلمان منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں- میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ امر پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ چھوٹی اور بڑی اقلیت میں کوئی فرق نہیں- اگر اقلیت کے حقوق کے تلف ہونے کا احتمال ہو تو اقلیت بڑی ہو یا چھوٹی اسے حفاظت کی ضرورت ہے- اور میں وہ امور بھی بیان کر چکا ہوں کہ جن کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ اکثریت اقلیت کو دکھ دیا کرتی ہے- اور پھر میں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ خالی قوانین بھی کافی نہیں ہوتے، بلکہ دو باتوں کا انتظام کر لینا ضروری ہوتا ہے-: اول یہ کہ قوانین پر صحیح طور پر عمل ہو اور اس کے ذرائع میں سے ایک بڑا کارآمد ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ جس جگہ اقلیت کی کثرت ہو اس میں اسے خود مختار حکومت دی جائے اور جس جگہ کثرت نہ