انوارالعلوم (جلد 10) — Page 403
۴۰۳ جائے بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک ثلث نیابت کا حق انہیں دیا جائے- ۵- انتخاب کا طریق قومی ہو، یعنی ہر ایک قوم اپنے نمائندے خود چنے- اور بعض کا مطالبہ یہ ہے کہ اگر اوپر کے چار مطالبات کو پورا کر دیا جائے تو ان پر عملدرآمد ہونے کے بعد مخلوط انتخاب محفوظ نشستوں کے ساتھ جاری کیا جا سکتا ہے- ۶- مذہب، مذہب کی تبلیغ یا مذہب کی تبدیلی میں حکومت کسی قسم کا دخل نہ دے- اور مذہب یا تمدن و تہذیب کے متعلق کوئی ایسا قانون پاس نہ کر سکے جس کا اثر کسی خاص مذہب کے لوگوں پر ہی کلی طور پر یا زیادہ طور پر پڑتا ہو- ان مطالبات کے صحیح عمل درآمد کو دیکھنے کیلئے یہ بھی مطالبات مسلمانوں کی طرف سے تھیکہ-: الف- مختلف اقوام کو ان کی تعداد کے مطابق ملازمتوں میں حصہ دیا جائے- ب- قانون اساسی کی تبدیلی کے لئے ایسے قوانین بنا دیئے جائیں کہ قلیل التعداد کے حقوق کی حفاظت کے لئے جو فیصلہ ہو اسے بغیر قلیل التعداد جماعتوں کی مرضی کے تبدیل نہ کیا جا سکے- زیکوسلویکا کا قانون اساسی مطالعہ کرنے کے بعد اور یہ دیکھ کر کہ وہاں کے حالات بہت کچھ ہندوستان سے ملتے ہیں اور پھر پچھلے چند ہفتوں کی ہندوؤں کی کش مکش کو دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ایک یہ قاعدہ بھی ہونا چاہئے کہ کسی صوبہ کی حدود کو تبدیل کرنے کا حق مرکزیحکومت کو نہ ہوگا، بلکہ اس کا فیصلہ خود اس صوبہ سے ہی تعلق رکھے گا- ان مطالبات کے گنوانے کے بعد میں ایک ایک مطالبہ کو الگ الگ لیکر اس امر پر بحث کرنا چاہتا ہوں- کہ آیا یہ مطالبات اول جائز ہیں یا نہیں، دوم ضروری ہیں یا نہیں؟ کیونکہ حقوق کے فیصلہ کے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اول وہ مطالبہ جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ جو مطالبہ جائز ہی نہیں- اس کا پیش کرنا ہی غلط ہے- کسی کا حق نہیں کہ وہ اپنی ضرورت کے لئے دوسرے کو اس کا حق چھوڑنے پر مجبور کرے- دوسرے یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ آیا وہ مطالبہ ضروری ہے یا نہیں؟ کیونکہ جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیا جائے کہ مدعی کو اس کا مطالبہ دینے میں مدعا علیہ کا کیا نقصان ہے اور نہ دینے میں مدعی کا کیا نقصان ہے- اس وقت تک صحیح نتیجہ پر پہنچنا ناممکن ہوتا ہے- اور بسا اوقات ایسے شخص سے قربانی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے- جس کے لئے وہ قربانی مہلک ہوتی ہے- اور اس شخص کو فائدہ پہنچا دیا جاتا ہے جو آگے ہی بہت کچھ لے چکا