انوارالعلوم (جلد 10) — Page 400
۴۰۰ حفاظت کیلئے دونوں امور کا انتظام کیا گیا ہے- اس امر کا بھی کہ قانون کا صحیح استعمال ہو اور اس امر کا بھی کہ قانون کو بدلا نہ جا سکے- امر اول کا انتظام ایک تو یہ کیا گیا ہے کہ لیگ آف نیشنز کو حق دیا گیا ہے کہ وہ ایسے امور کی اپیل سن سکے جو قلیل التعداد جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں- اور اگر قلیل التعداد جماعتوں کی طرف سے کوئی شکایت پہنچے تو لیگ کمیشن مقرر کر کے دیکھ لیتی ہے کہ آیا وہ شکایت صحیح ہے یا غلط- اور اس طرح قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق محفوظ ہو جاتے ہیں- دوسرا انتظام یہ کیا گیا ہے کہ قلیل التعداد جماعتوں کو گورنمنٹ میں ایسا دخل دیا گیا ہے- جس کی بنا پر وہ اپنے حقوق کی خود نگرانی کر سکتی ہیں- مثلاً زیکو سلویکا میں روتھینین قوم جو روسی قوم کی ایک شاخ ہے- چونکہ ایک علیحدہ تہذیت اور علیحدہ زبان اور علیحدہ مذہب رکھتی ہے- اس قوم کو روتھینیا کے علاقہ میں کامل خود اختیاری حکومت دے دی گئی ہے- گو خارجی معاملات میں اور عام قوانین میں وہ زیکو سلویکا کے ماتحت ہے- یہ انتظام تو اس وجہ سے ہے کہ ایک صوبہ میں روتھینین قوم کی کثرت ہے- لیکن جن ملکوں میں قلیل التعداد آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں اور کسی صوبہ میں بھی ان کی کثرت نہیں ہے- وہاں ان کے حقوق کی مزید حفاظت اس طرح کی گئی ہے کہ ان کی قوم کی زبان اور ان کے مذہب اور تمدن کی حفاظت کے لئے یہ قانون مقرر کر دیا گیا ہے کہ گورنمنٹ خود اسی قوم کی کمیٹیوں کو روپیہ دے دے اور وہ اپنی نگرانی میں اپنے سکولوں اور اپنی مذہبی سوسائٹیوں کا انتظام کریں- دوسرا انتظام یہ کیا گیا ہے کہ قومی تعداد کے لحاظ سے ملازمتوں کو اقلیتوں کے لئے محفوظ کر دیا گیا ہے- اسی طرح اقلیتوں کا ایک معقول عنصر گورنمنٹ میں موجود رہتا ہے- جو یہ دیکھتا رہتا ہے کہ ان کے بھائیوں کے حقوق نہ مارے جائیں- اس امر کا انتظام کہ قانون بدلا نہ جا سکے- اس طرح کیا گیا ہے کہ اقلیتوں کے متعلق جو قانون ہے- اس کے لئے یہ شرط کر دی گئی ہے کہ لیگ آف نیشنز کی اجازت کے بغیر کوئی گورنمنٹ اس قانون کو نہیں بدل سکتی پس خواہ کسی گورنمنٹ کی اکثریت اس قانون کو بدلنا بھی چاہئے تو بھی وہ اپنے قانون اساسی یا اپنی بین الاقوامی ذمہ داری کے سبب سے اسے بدلنے پر قادر نہیں ہو سکتی- اور اگر وہ اس قانون کو زور سے توڑنا چاہے تو دوسری حکومتیں اس کی ذمہوار ہیں کہ وہ ایسا نہ کر سکے- ۳۶؎ نہرو رپورٹ میں اقلیتوں کی کوئی حفاظت نہیں کی گئی اب اس کے مقابلہ میں دیکھا جائے کہ نہرو کمیٹی نے