انوارالعلوم (جلد 10) — Page 190
۱۹۰ کی صفات کے مطابق اعمال سے مناسبت اور مخالف اعمال سے نفرت ہونی چاہئے- پس فطری انقباض اور رغبت نیکی بدی کا پتہ دینے والے ہونگے- اسی طرح اصل کے خلاف چلنے سے نقصان پہنچتا ہے اور مطابق چلنے سے حسن پیدا ہوتا ہے اس لئے لازماً نیکی کا نتیجہ نیک اور لازماً بدیوں کے نتائج بد نکلتے ہیں- تیسرا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ بالارادہ ہستی ہے اور انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ بالارادہ کام کرے- پس گناہ اور نیکی ایک حد تک ارادہ سے بھی وابستہ ہو جائیں گے- لیکن باوجود ان تینوں باتوں کو تسلیم کر لینے کے اس امر کے تسلیم کرنے میں بھی کوئی عذر نہیں ہو سکتا کہ انسان بیرونی اثرات اور عادات کی وجہ سے اپنی عقل اور فطرت کے صحیحاستعمال سے بسا اوقات معذور ہو جاتا ہے پس ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تحریریہدایات بھی ملیں کہ اس اس عمل سے حسن ازلی کے مطابقت پیدا ہوگی اور اس اس طرح اس کی مخالفت ہوگی اور اسی کا نام شریعت ہے- پس اس لحاظ سے شریعت کے مطابق کام کرنے کا نام نیکی ہوا- اور اس کے خلاف کام کرنے کا نام بدی- پس صحیح تعریف نیکی اور بدی کی وہی ہے جو اوپر کی چاروں باتوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے- اور جس کی طرف حضرت مسیحموعود علیہ السلام کی تعلیم اشارہ کرتی ہے- اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے سامان تیرھواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے سامان پیدا کئے جو یہ ہیں-: (۱) تبلیغ اسلام- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس کام کو جو مدتوں سے بند ہو چکا تھا- جاری کیا آپ کی بعثت سے پہلے مسلمان تبلیغ اسلام کے کام سے بالکل غافل ہو چکے تھے- اپنے اردگرد کے لوگوں میں کبھی کوئی مسلمان تبلیغ کر لیتا تو کر لیتا لیکن تبلیغ کو باقاعدہ کام کے طور پر کرنا مسلمانوں کے ذہن میں ہی نہ تھا- اور مسیحی ممالک میں تبلیغ کو تو بالکل ناممکن خیال کیا جاتا تھا- آپ نے ۱۸۷۰ء کے قریب سے اس کام کی طرف توجہ کی اور سب سے پہلے خطوط کے ذریعہ سے اور پھر ایک اشتہار کے ذریعہ سے یورپ کے لوگوں کو اسلام کے مقابلہ کی دعوت دی اور بتایا کہ اسلام اپنے محاسن میں تمام مذاہب سے بڑھ کر ہے، اگر کسی مذہب میں ہمت ہے تو اس کا مقابلہ کرے- مسٹر الیگزنڈروب مشہور امریکن