انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 191

۱۹۱ مسلم مشنری آپ ہی کی تحریرات سے مسلمان ہوئے اور ہندوستان آپ ہی کی ملاقات کو آئے تھے کہ دوسرے مسلمانوں نے انہیں ورغلا دیا کہ مرزا صاحب کے ملنے سے باقی مسلمان ناراض ہو جائیں گے اور آپ کے کام میں مدد نہ دیں گے امریکہ واپس جا کر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا- اور مرتے دم تک اپنے اس فعل پر مختلف خطوط کے ذریعہ ندامت کا اظہار کرتے رہے- اور آج دنیا کے مختلف ملکوں میں اسلام کی تبلیغ کیلئے آپ کی جماعت کی طرف سے مشن کام کر رہے ہیں- اور تعجب ہے کہ آج ساٹھ سال کے بعد صرف آپ ہی کی جماعت اس کام کو کر رہی ہے- (۲)دوسرے آپ نے جہاد کی صحیح تعلیم دی- لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ آپ نے جہاد سے روکا ہے- حالانکہ آپ نے جہاد سے کبھی بھی نہیں روکا بلکہ اس پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں نے حقیقت جہاد کو بھلا دیا ہے اور وہ صرف تلوار چلانے کا نام جہاد سمجھتے رہے ہیں- جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو گیا تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور کفر دنیا میں موجود رہا- گو دنیا میں اسلام کی حکومت ہو گئی، مگر دلوں میں کفر باقی رہا اور ان ملکوں کی طرف بھی توجہ نہ کی گئی جن کو اسلامی حکومتوں سے جنگ کا موقع نہ پیش آیا- اور اس وجہ سے وہاں کفار کی حکومت رہی- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر اپنی جگہ پر پھر طاقت پکڑتا گیا اور بعض قوموں کی سیاسی برتری کے ساتھ ہی اسلام کو نقصان پہنچنے لگا- اگر مسلمان جہاد کی یہ تعریف جانتے جو حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام نے کی ہے کہ جہاد ہر اس فعل کا نام ہے جسے انسان نیکی اور تقویٰ کے قیام کیلئے کرتا ہے اور وہ جس طرح تلوار سے ہوتا ہے اسی طرح اصلاح نفس سے بھی ہوتا ہے اور اسی طرح تبلیغ سے بھی ہوتا ہے اور مال سے بھی ہوتا ہے اور ہر ایک قسم کے جہاد کا الگ الگ موقع ہے تو آج کا روز بد نہ دیکھنا پڑتا- اگر اس تعریف کو سمجھتے تو اسلام کے ظاہری غلبہ کے موقع پر جہاد کے حکم کو ختم نہ سمجھتے- بلکہ انہیں خیال رہتا کہ صرف ایک قسم کا جہاد ختم ہوا- دوسری اقسام کے جہاد ابھی باقی ہیں اور تبلیغ کا جہاد شروع کرنے کا زیادہ موقع ہے- اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ نہ صرف اسلام اسلامی ممالک میں پھیل جاتا بلکہ یورپ بھی آج مسلمان ہوتا اور اس کی ترقی کے ساتھ اسلام کو زوال نہ آتا- غرض حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام نے جہاد کے مواقع بتائے ہیں- آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تلوار کا جہاد منع ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں شریعت کے مطابق کس جہاد کا موقع ہے اور خود بڑے زور