انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 189

۱۸۹ تیسری تعریف کہ جس سے انسانی فطرت انقباض کرے وہ برائی ہے اور جس کی طرف رغبت کرے وہ نیکی ہے- یہ بھی صحیح ہے لیکن فطرت انسانی دوسرے اثرات یعنی عادات وغیرہ کے ماتحت کبھی خراب بھی ہو جاتی ہے- پس دقت یہ ہے کہ فطرت کا صحیح میلان کس طرح معلوم ہو اور جب تک صحیح میلان فطرت کا معلوم نہ ہو سکے- اس تعریف سے بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا- چوتھی تعریف کہ جس سے شریعت روکے وہ برائی ہے اور جس کا حکم دے وہ نیکی ہے یہ بھی ناممکن ہے کیونکہ اگر شریعت نے حکم یا نہی کو کسی حکمت پر مبنی کرنا ہے تو اس حکم یا نہی کو اسی حکمت کی طرف منسوب کرنا چاہئے- اور یوں کہنا چاہئے کہ فلاں سبب جس میں پایا جائے وہ بدی ہے- اور فلاں سبب پایا جائے تو وہ نیکی ہے- اور اگر شریعت نے بلا کسی حکمت کے بعض امور کا حکم دینا ہے اور بعض سے روکنا ہے تو شریعت کا یہ فعل لغو اور عبث ہو جاتا ہے- پس یہ سب تعریفیں نامکمل ہیں اور صداقت ان کے ملانے سے پیدا ہوتی ہے- چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نیکی بدی کی یہ تعریف کی ہے کہ حسن ازلی اور حسناکمل یعنی خدا تعالیٰ کی صفات کی موافقت پیدا کرنا نیکی ہے- اور اس کی مخالفت یعنی خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف کوئی کام کرنا برائی ہے- اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ یہودیت، مسیحیت اور اسلام کا اتفاق ہے- خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا ہے یعنی ظلی طور پر اپنی صفات کی چادر اسے پہنائی ہے اور اپنی صفات کا مظہر بننے کی اسے طاقت دی ہے اور اس غرض سے اسے پیدا کیا ہے- گویا انسان تصویر ہے خدا کی اور خدا تعالیٰ اصل ہے- اب یہ امر ظاہر ہے تصویر ¶کا حسن یہی ہوتا ہے کہ وہ اصل کے مطابق ہو- اور اس کا عیب یہ ہے کہ اصل کے خلاف ہو- پس انسان جو عمل ایسا کرتا ہے جو اسے خدا کی صفات کے موافق بناتا ہے وہ نیکی ہے اور جو عمل ایسا کرتا ہے جو اسے خدا تعالیٰ کی صفات سے دور لے جاتا ہے وہ بدی ہے- کیونکہ اس طرح گویا وہ تصویر کو بگاڑ رہا ہوتا ہے- جس کے بنانے کے لئے وہ بنایا گیا ہے- اس مناسبت کی وجہ سے جو انسان اور خدا میں ہے اصل منبع اور مبدا خدا ہے- پس جب انسان درحقیقت ایک تصویر ہے تو لازماً اصل کی مطابقت حسن ہے اور اس کی مخالفت عیب یا دوسرے لفظوں میں مطابقت نیکی ہے اور مخالفت بدی- اب چونکہ انسان کو مخفی طاقتوں کے ساتھ جو محدود دائرہ میں خدا تعالیٰ کی صفات سے مشابہ ہیں پیدا کیا گیا ہے- اس لئے فطرتاً اسے خدا تعالیٰ