انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 157

۱۵۷ بھی ہیں- جس طرح تم نہیں چاہتے کہ تمہارے جذبات کو ٹھیس لگے، اسی طرح وہ بھی چاہتی ہے کہ اس کے جذبات کو پامال نہ کیا جائے پس تمہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے- اسی طرح آپ نے فرمایا بعض لوگ کہتے ہیں کہ الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستہ ایام ثم استوی علی العرش الرحمن فاسئل بہ خبیرا ۲۴؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کئے گئے- اور پھر خدا عرش پر قائم ہو گیا- مگر یہ غلط ہے- کیونکہ زمین و آسمان لاکھوں سال میں پیدا ہوئے ہیں- یہ جیالوجی سے ثابت ہے لیکن حق یہ ہے کہ لوگ خود آیت قرآنیہ کو نہیں سمجھتے- ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ زمین و آسمان کتنے سالوں میں بنے مگر یہ جانتے ہیں کہ چھ دنوں میں نہیں بنے- کیونکہ یوم تو سورج سے بنتے ہیں- مگر جب سورج ہی نہ تھا تو یہ دن کہاں سے آگئے؟ یوم کے معنے ایک اندازہ وقت کے ہیں- قرآن کریم میں یوم ایک ہزار سال کا بھی اور پچاس ہزار سال کا بھی آیا ہے- پس اس آیت میں چھ لمبے زمانوں میں زمین و آسمان کی پیدائش مراد ہے- (۱۱) گیارہویں لوگ قرآن کریم کی تفسیر کرنے میں غلطی کیا کرتے تھے- آپ نے ایسے اصول پر تفسیر قرآن کریم کی بنا رکھی کہ غلطی کا امکان بہت ہی کم ہو گیا ہے- ان اصول کے ذریعہ سے ہی خدا تعالیٰ نے آپ کے اتباع پر قرآن کریم کے ایسے معارف کھولے ہیں جو اور لوگوں پر نہیں کھلے- چنانچہ میں نے بھی کئی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ قرآن کریم کا کوئی مقام کسی بچہ سے کھلوایا جائے یا قرعہ ڈال لیا جائے پھر اس جگہ کے معارف میں بھی لکھوں گا، دوسری کسی جماعت کا نمائندہ بھی لکھے- پھر معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کس کے ذریعہ قرآن کریم کے معارف ظاہر کراتا ہے مگر کسی نے یہ بات منظور نہ کی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اصول تفسیر بیان کئے ہیں وہ یہ ہیں-: (۱) آپ نے بتایا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا راز ہے اور راز ان پر کھولے جاتے ہیں جو خاص تعلق رکھتے ہیں- اس لئے قرآن کریم سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے- مگر یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کی تفسیریں جن لوگوں نے لکھی ہیں وہ نہ صوفی تھے نہ ولی بلکہ عام مولوی تھے جو عربی جاننے والے تھے- ہاں انہوں نے بعض آیتوں کی تفسیریں لکھی ہیں اور نہایت لطیف تفسیریں لکھی ہیں- جیسا کہ حضرت محی الدین صاحب ابنعربی کی کتب میں آیات قرآنیہ کی تفسیر آتی ہے تو ایسی لطیف ہوتی ہے کہ دل اس کی