انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 158

۱۵۸ صداقت کا قائل ہو جاتا ہے- غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ قرآن کریم سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ تعلق باللہ حاصل ہو- (۲)دوسرا اصل آپ نے یہ بتایا کہ قرآن کریم کا ہر ایک لفظ ترتیب سے رکھا گیا ہے- اس نکتہ سے قرآن کریم کی تفسیر آسان بھی ہو گئی ہے اور اس کے لطیف معارف بھی کھلتے ہیں- پس چاہئے کہ جب کوئی قرآن کریم پر غور کرے تو اس بات کو مدنظر رکھے کہ خدا تعالیٰ نے ایک لفظ کو پہلے کیوں رکھا ہے اور دوسرے کو بعد میں کیوں- جب وہ اس پر غور کرے گا تو اسے حکمت سمجھ میں آجائے گی- (۳)قرآن کریم کا کوئی لفظ بے مقصد نہیں ہوتا- اور کوئی لفظ زائد نہیں ہوتا- ہر لفظ کسی خاص مفہوم اور مطلب کے ادا کرنے کے لئے آتا ہے- پس کسی لفظ کو یونہی نہ چھوڑو- (۴)جس طرح قرآن کریم کا کوئی لفظ بے معنی نہیں ہوتا- اسی طرح وہ جس سیاقوسباق میں آتا ہے وہیں اس کا آنا ضروری ہوتا ہے پس معنے کرتے وقت پہلے اور پچھلے مضمون کے ساتھ تعلق سمجھنے کی ضرور کوشش کرنی چاہئے- اگر سیاق و سباق کا لحاظ نہ رکھا جائے تو معنے کرنے میں غلطی ہوتی ہے- (۵)قرآن کریم اپنے ہر دعویٰ کی دلیل خود بیان کرتا ہے اس کے متعلق مفصل پہلے بیان کر آیا ہوں- آپ نے فرمایا جہاں قرآن کریم میں کوئی دعویٰ ہو وہاں اس کی دلیل بھی تلاش کرو ضرور مل جائے گی- (۶)قرآن اپنی تفسیر آپ کرتا ہے- جہاں کہیں کوئی بات نامکمل نظر آئے اس کے متعلق دوسرا ٹکڑا دوسری جگہ تلاش کرو جو ضرور مل جائے گا اور اس طرح وہ بات مکمل ہو جائے گی- (۷)قرآن کریم میں تکرار نہیں- اس کے متعلق میں تفصیلا پہلے بیان کر آیا ہوں- ۸(قرآن کریم میں محض قصے نہیں ہیں- بلکہ ہر گذشتہ واقعہ پیشگوئی کے طور پر بیان ہوا ہے- یہ بھی پہلے بیان کر چکا ہوں- )۹) قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہے- پہلے لوگوں کو جو آیت سمجھ نہ آتی تھی اس کے متعلق کہہ دیتے کہ وہ منسوخ ہے اور اس طرح انہوں نے قرآن کریم کا بہت بڑا حصہ منسوخ قرار دے دیا- ان کی مثال ایسی ہی تھی- جیسے کہتے ہیں کسی شخص کو خیال تھا کہ وہ بڑا