انوارالعلوم (جلد 10) — Page 156
۱۵۶ پانی نہیں برساتا زمین کی پھوٹنے کی قابلیت ظاہر نہیں ہوتی- لیکن جب آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے تب جا کر انسانی ذہن بھی اپنی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے اور آسمانی کلام کی مدد سے باریک در باریک مطالبروحانیہ کو پیدا کرنے لگتا ہے- چنانچہ ان آیات کا سیاق بھی انہیں معنوں پر دلالت کرتا ہے- کیونکہ آگے فرمایا ہے کہانہ لقول فصل وماھو بالھزل-۲۱؎یعنی پہلی بات سے یہ امر ثابت ہے کہ قرآن کریم کوئی لغو بات نہیں، بلکہ حقیقت کو ثابت کرنے والا کلام ہے- کیونکہ اس زمانہ میں بھی زمین خشک ہو رہی تھی اور دینی علوم سے لوگ بے بہرہ تھے- پس ضرورت تھی کہ خدا کی رحمت کا بادل کلام الٰہی کی صورت میں برستا اور لوگوں کی روحانی خشکی کو دور کرتا- اسی طرح آپ نے بتایا کہ دیکھو قرآن کریم کے زمانہ کے لوگوں کا خیال تھا کہ آسمان ایک ٹھوس چیز ہے اور ستارے اس میں جڑے ہوئے ہیں مگر یہ تحقیق واقعہ کے خلاف تھی- قرآن کریم نے اس زمانہ میں ہی اس کو رد کیا ہے- اور فرمایا ہے کہ کل فی فلک یسبحون- ۲۲؎ سیارے ایک آسمان میں جو ٹھوس نہیں ہے بلکہ ایک لطیف مادہ ہے جسے سیال سے نسبت دی جا سکتی ہے اور سیارے اس میں اس طرح گردش کرتے ہیں- جیسے کہ تیراک پانی میں تیرتا ہے- موجودہ تحقیق میں ایتھر کا بیان بالکل اس بیان کے مشابہ ہے- اس طرح آپ نے فرمایا کہ خلق منھا زوجھا ۲۳؎ کے یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ آدم کی پسلی سے خدا تعالیٰ نے حوا کو پیدا کیا اور اس پر اعتراض کیا جاتا ہے- حالانکہ یہ معنی ہی غلط ہیں- قرآن کریم میں یہ نہیں کہا گیا کہ حوا آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی بلکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حوا آدم ہی کی جنس سے پیدا کی گئی- یعنی جن طاقتوں اور جذبات کو لے کر مرد پیدا ہوا، انہی طاقتوں اور جذبات کو لے کر عورت پیدا ہوئی- کیونکہ اگر مرد اور عورت کے جذبات ایک نہ ہوتے تو ان میں حقیقی انس پیدا نہیں ہو سکتا تھا- بلکہ اگر مرد میں شہوت رکھی جاتی اور عورت میں نہ ہوتی تو کبھی ان میں اتحاد پیدا نہ ہوتا- اور ایک دوسرے سے سر پھٹول ہوتا رہتا- پس جیسے جذبات مرد میں رکھے گئے ہیں، ایسے ہی عورت میں بھی رکھے گئے ہیں تا کہ وہ آپس میں محبت سے رہ سکیں- اب دیکھو یہ مسئلہ مرد و عورت میں کیسا صلح اور محبت کرنے والا ہے جب کوئی مرد عورت سے بلاوجہ ناراض ہو تو اسے کہیں گے- جیسے تمہارے جذبات ہیں، ایسے ہی عورت کے