انوارالعلوم (جلد 10) — Page 155
۱۵۵ دلائل اپنی الہامی کتاب سے پیش کرو- مگر عیسائی اس کا کوئی جواب نہ دے سکے- اگر میں ہوتا تو اٹھ کر چلا آتا- مگر میرا مرزا پندرہ دن تک عیسائیوں کی بیوقوفی کی باتیں سنتا رہا اور ان کو سمجھاتا رہا یہ حضرت مرزا صاحب کا ہی حوصلہ تھا- (۱۰)دسویں غلطی بعض لوگوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ قرآن کریم علوم یقینیہ کو رد کرتا اور ان کے خلاف باتیں بیان کرتا ہے- اس غلطی کو بھی آپ نے دور فرمایا اور بتایا کہ قرآنکریم ہی تو ایک کتاب ہے- جو نیچر یا خدا کے فعل کو زور کے ساتھ پیش کرتی ہے اور اس کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے- اور ظاہری سلسلہ یعنی نیچر کو باطنی سلسلہ یعنی کلام الہی کے مماثل قرار دیتی ہے- پس یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن کریم علوم طبعیہ کے خلاف باتیں کرتا ہے خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کا فعل ایک دوسرے کے کبھی خلاف نہیں ہو سکتے- جو امور قرآن کریم میں خلافقانون قدرت قرار دیئے جاتے ہیں- آپ نے ان کے متعلق فرمایا- وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہیں- یا تو یہ کہ جس بات کو لوگوں نے قانون قدرت سمجھ لیا ہے وہ قانون قدرت نہیں- یا پھر قرآن کریم کے جو معنی سمجھے گئے ہیں وہ درست نہیں- چنانچہ آپ نے اس کے متعلق کئی مثالیں بیان فرمائیں کہ کس طرح قرآن کریم کے معنی غلط سمجھے گئے- چنانچہ آپ نے یہی مثال دی ہے کہوالسماء ذات الرجع والارض ذات الصدع ۲۰؎ کے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ آسمان چکر کھاتا ہے اور زمین پھٹتی ہے- اور اس پر طبعی لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ آسمان کوئی مادی شے ہی نہیں پھر وہ چکر کیونکر لگاتا ہے اور اگر مادی وجود ہو بھی تو بھی زمین چکر کھاتی ہے نہ کہ آسمان- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں- سماء کے معنی بادل کے بھی ہیں اور رجع کے معنی بار بار آنے کے- پس اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آسمان چکر کھاتا ہے بلکہ یہ ہیں کہ ہم شہادت کے طور پر بادلوں کو پیش کرتے ہیں- جو باربار خشک زمین کو سیراب کرنے کے لئے آتے ہیں- پھر زمین کو پیش کرتے ہیں جو بارش ہونے پر پھٹتی ہے یعنی اس سے کھیتی نکلتی ہے- شہادت کے طور پر ان چیزوں کو پیش کر کے بتایا گیا ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے بادلوں کا سلسلہ پیدا کیا ہے کہ وہ بار بار آتے ہیں اور زمین کی شادابی کا موجب ہوتے ہیں اور ان کے بغیر سرسبزی اور شادابی ناممکن ہے، اسی طرح روحانی سلسلہ کا حال ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰٰ اپنے فضل کے بادل نہیں بھیجتا اور اپنے کلام کا