انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 154

۱۵۴ جو بے حقیقت امور منسوب کئے جاتے تھے ان سے اسے پاک قرار دیا- (۹)نویں غلطی یہ لگ رہی تھی کہ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کے بہت سے دعوے بے دلیل ہیں، انہیں دلائل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا- مسلمان کہتے قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لئے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں- اور دوسرے لوگ کہتے- یہ بیہودہ باتیں ہیں انہیں ہم کس طرح مان سکتے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ قرآن کریم کا ہر ایک دعویٰ دلائل قاطع اپنے ساتھ رکھتا ہے- اور قرآن اپنے ہر دعویٰ کی دلیل خود دیتا ہے- اور فرمایا یہی بات قرآن کریم کو دوسری الہامی کتب سے ممتاز کرتی ہے- تم کہتے ہو قرآن کی باتیں بے دلیل ہیں- مگر قرآن میں یہی خصوصیت نہیں کہ اس کی باتیں دلائل سے ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی باتوں کے دلائل خود دیتا ہے- وہ کتاب کامل ہی کیا ہوگی جو ہمارے دلائل کی محتاج ہو- بات خدا بیان کرے اور دلائل ہم ڈھونڈیں- یہ تو ایسی ہی مثال ہوئی جیسے راجوں مہاراجوں کے درباروں میں ہوتا ہے کہ جب راجہ صاحب کوئی بات کرتے ہیں تو ان کے مصاحب ہاں جی ہاں جی کہہ کر اس کی تائید و تصدیق کرنے لگ جاتے ہیں- پس حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ کیا کہ قرآن کریم کا کوئی دعویٰ ایسا نہیں جن کی دلیل بلکہ دلائل خود اس نے نہ دیئے ہوں- اور اس مضمون کو آپ نے اس وسعت سے بیان کیا کہ دشمنوں پر اس کی وجہ سے ایک موت آ گئی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا امرتسر میں عیسائیوں سے جو مباحثہ ہوا اور جنگمقدس کے نام سے شائع ہوا، اس میں آپ نے عیسائیوں کے سامنے یہی بات پیش کی کہ فریقین جو دعویٰ کریں اس کا ثبوت اپنی الہامی کتاب سے دیں- اور پھر اس کے دلائل بھی الہامی کتاب سے ہی پیش کریں- عیسائی دلائل کیا پیش کرتے وہ یہ دعویٰ بھی انجیل سے نہ نکال سکے کہ مسیحؑ خدا کا بیٹا ہے- حضرت خلیفہ المسیح الاول فرماتے- ایک دفعہ میں گاڑی میں بیٹھا کہیں جا رہا تھا کہ ایک عیسائی نے مجھ سے کہا- میں نے مرزا صاحب کا امرتسر والا مباحثہ دیکھا مگر مجھے تو کوئی فائدہ نہ ہوا- آپ کے پاس ان کی صداقت کی کیا دلیل ہے؟ آپ نے فرمایا- یہی مباحثہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کی اور آپ کی سچائی کی دلیل ہے- عیسائی نے کہا وہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ حضرت مرزا صاحب نے عیسائیوں کو کہا تھا- کہ اپنا دعویٰ اور اس کے