انوارالعلوم (جلد 10) — Page 151
۱۵۱ آئندہ پوری ہوں گی حتی کہ نملہ کا ایک واقعہ قرآن کریم میں آتا ہے اس کے متعلق تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون الرشید کے وقت ایسا ہی واقعہ پیش آیا- اس وقت بھی نملہ قوم کی حکمران ایک عورت تھی جیسے کہ حضرت سلیمانؑ کے وقت میں تھی- اس نے ہارون الرشید کے آگے ایک سونے کی تھیلی پیش کی- اور کہا کہ ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے وقت میں بھی ایک عورت نے ہی تحائف پیش کئے تھے- اب میں بھی عورت ہوں جو یہ پیش کر رہی ہوں اور اس طرح آپ کو سلیمانؑ سے مشابہت حاصل ہو گئی ہے- ہارون الرشید نے بھی اس پر فخر کیا کہ اسے حضرت سیلمانؑ سے تشبیہ دی گئی- (۷) ساتواں شبہ یہ پیدا ہو گیا تھا کہ قرآن کریم میں تاریخ کے خلاف باتیں ہیں- یہ شبہ مسلمانوں میں بھی پیدا ہو گیا تھا- اور غیر مسلموں میں بھی سرسید احمد جیسے لائق شخص نے بھی اس اعتراض سے گھبرا کر یہ جواب پیش کیا کہ قرآن کریم میں خطابیات سے کام لیا گیا ہے- یعنی ایسے واقعات کو یا عقائد کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جو گو صحیح نہیں مگر مخاطب ان کی صحت کا قائل ہے اس لئے اس کے سمجھانے کے لئے انہیں صحیح فرض کر کے پیش کر دیا گیا ہے- لیکن یہ جواب درحقیقت حالات کو اور بھی خطرناک کر دیتا ہے- کیونکہ سوال ہو سکتا ہے کہ کس ذریعہ سے ہمیں معلوم ہو کہ قرآن کریم میں کونسی بات خطابی طور پر پیش کی گئی ہے اور کونسی سچائی کے طور پر- اس دلیل کے ماتحت تو کوئی شخص سارے قرآن کو ہی خطابیات کی قسم کا قرار دیدے تو اس کی بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا- اور دنیا کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا- خطابیدلیل کے لئے ضروری ہے کہ خود مصنف ہی بتائے کہ وہ خطابی ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مذکورہ بالا اعتراض کے جواب میں خطابیات کے اصول کو اختیار نہیں کیا بلکہ اسے رد کیا ہے- اور یہ اصل پیش کیا ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے- اس عالم الغیب کی طرف سے جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یقیناً درست ہے- اور اس کے مقابلہ میں دوسری تاریخوں کا جو اپنی کمزوری پر آپ شاہد ہیں پیش کرنا بالکل خلافعقل ہے- ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن کریم جو کچھ بیان کرتا ہے اس کے معنی خود قرآنکریم کے اصول کے مطابق کئے جائیں- اسے ایک قصوں کی کتاب نہ بنایا جائے اور اس کی پر حکمت تعلیم کو سطحی بیانات کا مجموعہ نہ سمجھ لیا جائے- (۸) آٹھویں غلطی جس میں لوگ مبتلا ہو رہے تھے یہ تھی کہ قرآن کریم بعض ایسے