انوارالعلوم (جلد 10) — Page 150
۱۵۰ کی آیتوں کو پھول سے تشبیہ دی ہے- اب دیکھو کہ پھول میں بظاہر ہر نیا دائرہ پتیوں کا تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ہر دائرہ پھول کے حسن کی زنجیر کو کامل کر رہا ہوتا ہے کیا پھول کی پتیوں کے ایک دائرہ کو اگر توڑ دیا جائے تو پھول کامل پھول رہے گا؟ نہیں- یہی بات قرآن کریم میں ہے- جس طرح پھول میں ہر پتی نئی خوبصورتی پیدا کرتی ہے- اور خدا تعالیٰ پتوں کی ایک زنجیر کے بعد دوسری بناتا ہے اور تب ہی ختم کرتا ہے- جب حسن پورا ہو جاتا ہے- اسی طرح قرآن میں ہر دفعہ کا مضمون ایک نئے مطلب اور نئی غرض کے لئے آتا ہے- اور سارا قرآنکریم مل کر ایک کامل وجود بنتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں- یہ خیال کرنا کہ قرآن کریم کی آیتیں ایک دوسری سے الگ الگ ہیں یہ غلط ہے قرآن کریم کی آیتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جسم کے ذرات- اور سورتوں کی مثال ایسی ہے جیسے جسم کے اجزاء مثلاً انسان کے ۳۲ دانت ہوتے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ دانتوں کو ۳۲ دفعہ دہرایا گیا ہے- اس لئے ۳۱ دانت توڑ ڈالنے چاہئیں- اور صرف ایک رہنے دینا چاہئے- یا انسان کے دو کان ہیں- کیا کوئی ایک کان اس لئے کاٹ دے گا کہ دوسرا کان کیوں بنایا گیا ہے یا کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انسان کی بارہ پسلیاں نہیں ہونی چاہئیں، گیارہ توڑ دینی چاہئیں- اگر کسی کی ایک پسلی بھی توڑ دے گا تو وہ ضرب شدید کا دعویٰ کر دے گا- اسی طرح انسان کے جسم پر لاکھوں بال ہیں- کیا کوئی سارے بال منڈوا کر ایک رکھ لے گا کہ تکرار نہ ہو- ذرا جسم سے تکرار دور کر دو اور پھر دیکھو کیا باقی رہ جاتا ہے؟ عرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے مطالب بیان کر کے تکرار کا اعتراض کرنے والوں کو ایسا جواب دیا ہے کہ گویا ان کے دانت توڑ دیئے ہیں- (۶)چھٹی غلطی قرآن کریم کے متعلق مسلمانوں کو یہ لگ رہی تھی کہ قرآن کریم میں عبرت کے لئے پرانے قصے بیان کئے گئے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شبہ کا بھی ازالہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم میں عبرت کے لئے قصے نہیں بیان کئے گئے گو قﷺقرآنیہ سے عبرت بھی حاصل ہوتی ہے- لیکن اصل میں وہ امت محمدیہﷺ~ کے لئے پیشگوئیاں ہیں- اور جو کچھ ان واقعات میں بیان کیا گیا ہے، وہ بعینہ آئندہ ہونے والا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم مسلسل قصہ نہیں بیان کرتا بلکہ منتخب ٹکڑہ کا ذکر کرتا ہے- یہ امر ایسا بدیہی ہے کہ قرآن کریم کے قص کی جزئیات تک پوری ہوتی رہی ہیں- اور