انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 152

۱۵۲ چھوٹے چھوٹے امور کو بیان کر دیتا ہے جن کا بیان کرنا علم و عرفان اور ارتقائے ذہن انسانی کے لئے مفید نہیں ہو سکتا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے بھی غلط ثابت کیا اور بتایا کہ قرآن کریم میں کوئی فضول امر بیان نہیں ہوا- بلکہ جس قدر مطالب یا واقعات بیان کئے گئے ہیں نہایت اہم ہیں- میں مثال کے طور پر حضرت سیلمانؑ کے ایک واقعہ کو لیتا ہوں- قرآن کریم میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک محل ایسا تیار کرایا جس کا فرش شیشے کا تھا اور اس کے نیچے پانی بہتا تھا- ملکہسبا جب ان کے پاس آئی تو انہوں نے اسے اس میں داخل ہونے کو کہا لیکن ملکہ نے سمجھا کہ اس میں پانی ہے اور وہ ڈری- مگر حضرت سلیمانؑ نے بتایا کہ ڈرو نہیں یہ پانی نہیں بلکہ شیشہ کے نیچے پانی ہے- قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں- قیل لھا ادخلی الصرح فلما راتہ حسبتہ لجہ وکشفت عن ساقیھا قال انہ صرح ممرد من قواریر- قالت رب انی ظلمت نفسی واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین- ۱۹؎ یعنی سبا کی ملکہ کو حضرت سلیمان کی طرف سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو جا- جب وہ داخل ہوئی تو اسے معلوم ہوا کہ فرش کی بجائے گہرا پانی ہے اس پر اس نے اپنی پنڈلیوں کو ننگا کر لیا یا یہ کہ وہ گھبرا گئی- تب حضرت سلیمان نے اسے کہا کہ تمہیں غلطی لگی ہے یہ پانی نہیں- پانی نیچے ہے اور اوپر شیشہ کا فرش ہے- تب اس نے کہا- اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا- اور اب میں سلیمان کے ساتھ سب جہانوں کے رب اللہ پر ایمان لاتی ہوں- مفسرین ان آیات کے عجیب و غریب معنی کرتے ہیں- بعض کہتے ہیں حضرت سلیمانؑ اس سے شادی کرنا چاہتے تھے- مگر جنوں نے انہیں خبر دی تھی کہ اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں- حضرت سلیمانؑ نے اس کی پنڈلیاں دیکھنے کیلئے اس طرح کا محل بنوایا- مگر جب اس نے پاجامہ اٹھایا تو معلوم ہوا اس کی پنڈلیوں پر بال نہیں ہیں- بعض کہتے ہیں پنڈلیوں کے بال دیکھنے کیلئے حضرت سلیمانؑ نے اس قدر انتظام کیا کرنا تھا- اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اس ملکہ کا تخت منگایا تھا- اس پر انہوں نے خیال کیا کہ میری ہتک ہوئی ہے کہ میں نے اس سے تخت مانگا- اس ہتک کو دور کرنے کیلئے آپ نے ایسا قلعہ بنوایا تا کہ وہ اپنی وقعت قائم کر سکیں-