انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 118

۱۱۸ نہایت باریک امور کو دیکھنا چاہئے- اس تمہید کے بعد بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح ناصریؑ کے متعلق قرآن اور حدیث میں جو کچھ کام بتایا گیا ہے وہ کوئی مسلمان لے لے اور جو انجیل میں بتایا گیا ہے وہ عیسائی لے لے- میں دعویٰ کرتا ہوں کہ جو کام ان کا بتایا جائے گا اس ایک ایک کام کے مقابلہ میں سو سو کام اس شان اور عظمت کا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیش کر دوں گا- اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت مسیحؑ مردے زندہ کرتے تھے تو میں کہوں گا قرآن سے بتاؤ کہ وہ کیسے مردے زندہ کرتے تھے- پھر جیسے ثابت ہوں ویسے ایک کے مقابلہ میں سو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زندہ کئے ہوئے بتا دوں گا- مگر میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مردے زندہ کرنا کام نہیں- اسے اگر ہم ظاہری معنوں میں لیں تو وہ معجزہ کہلائے گا- اسی طرح بیماروں کو اچھا کرنا بھی کام نہیں ہے اور یہ تو طبیب بھی کرتے ہیں- ہاں معجزات کے نتائج کام کہلا سکتے ہیں- مثلاً یہ کہ ان معجزوں کے ذریعہ انہوں نے لوگوں میں پاکیزگی پیدا کی- مگر جو کوئی اس قسم کے یہ نشان بھی ثابت کرے- میں اس ایک کے مقابلہ میں سو سو انشاء اللہ پیش کر دوں گا- ان کے علاوہ قرآن اور حدیث سے مسلمان یا انجیل سے عیسائی جو کام ثابت کریں ان کے مقابلہ میں سو سو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دکھادوںگا- اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام بیان کرنا شروع کرتا ہوں- لیکن یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ نبی کے جو روحانی کام ہوتے ہیں اور حقیقی کام وہی ہوتے ہیں اور وہی اہم ہوتے ہیں ان کے متعلق میں کچھ نہیں بیان کروں گا- کیونکہ میں اگر روحانی کام پیش کروں تو ایک غیراحمدی کہہ سکتا ہے کہ یہ آپ کا دعویٰ ہے اسے کس طرح مان لیا جائے- مثلاً نبی کا اصلی اور حقیقی کام یہ ہے کہ انسانوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر دے- اب اگر میں یہ کہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے ماننے والوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر دیا تو ایک غیر احمدی کہے گا یہ آپ کا دعویٰ ہے- اسے حضرت مرزا صاحب کو نہ ماننے والا کس طرح تسلیم کر سکتا ہے- اس وجہ سے میں ایسی باتوں کو چھوڑتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے موٹے موٹے کام بیان کرتا ہوں جو دوسروں کیلئے بھی قابل تسلیم ہوں- ۱- پہلا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ہے کہ جس میں تمام نبی شریک ہیں کہ نبی خدا تعالیٰ کا ثبوت اس کی کامل صفات سے دیا کرتا ہے خدا تعالیٰ دنیا سے مخفی