انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 117

۱۱۷ یا حضرت رامچندر کے متعلق کہا جاتا کہ انہوں نے کیا کیا- تو کیا جواب دیتے؟ یا حضرت اسمٰعیلؑ، حضرت اسحٰقؑ، حضرت زکریاؑ کے زمانہ کے متعلق کیا جائے تو مسلمان کیا جواب دیں- یا حضرت یوسفؑ کے متعلق پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنے زمانہ میں کیا کیا؟ تو کیا بتائیں- کیا یہ کہ انہوں نے بادشاہ کے خزانوں کی دیانتداری سے حفاظت کی- مگر یہ کیا کام ہے- اس قسم کے دیانتدار تو کئی وڈ ۳؎ یافاکس ۴؎ نام کے انگریز بھی مل جائیں گے- اسی طرح یرمیاہ نبی کے متعلق اگر کوئی یہی سوال کرے تو کیا جواب دیا جائے گا- کیا یہ کہ وہ اپنے زمانہ میں روتے پیٹتے رہے کہ لوگ بیدار کیوں نہیں ہوتے- بعض انبیاء کے متعلق تو اس قسم کے جواب مل جائیں گے مگر بعض کے متعلق ایسے بھی نہ ملیں گے- مگر کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی تعلیموں نے دنیا میں تغیر نہیں پیدا کیا اور بڑے بڑے عظیمالشان نتائج نہیں نکلے- بات یہ ہے کہ نبی کی زندگی میں ان تغیرات کا جو آئندہ ہونے والے ہوتے ہیں صرف بیج نظر آنا ہے جس میں سے بعد میں عظیم الشان درخت پیدا ہو جاتا ہے- درخت ان کی زندگیوں میں نہیں دکھایا جا سکتا- جو کچھ دکھایا جا سکتا ہے وہ بیج ہوتا ہے اسے دکھا کر کہا جا سکتا ہے کہ اس سے درخت بن جائے گا- غرض تمام انبیاء کی زندگیوں پر غور کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انبیاء نہایت باریک روحانی اثر دنیا میں چھوڑتے ہیں جو مادی طور پر نہیں دیکھا جا سکتا- ہاں عقلی طور پر سمجھا جا سکتا ہے- کہ نبی نے ایسی چیز چھوڑی ہے جو عظیم الشان نتیجہ پیدا کر سکتی ہے- دراصل انبیاء کی مثال اس بارش کی سی ہوتی ہے جو ایک عرصہ تک رکی رہنے کے بعد برستی ہے- بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ پاؤں پھوٹنے لگ جاتے ہیں، درخت سوکھنے شروع ہو جاتے ہیں- لیکن جب بارش ہوتی ہے تو خود بخود ہاتھوں میں نرمی آ جاتی ہے- سبزہ پیدا ہو جاتا ہے اور کئی قسم کی کیفیات ظاہر ہونے لگ جاتی ہیں- پس یہ سوال کہ فلاں نبی نے ابتدائی زمانہ میں کیا کیا- نہایت باریک ہوتا ہے اور مومن کا کام ہے کہ نہایت احتیاط سے اس پر غورکرے- اگر کوئی شخص ایک نبی کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ اس کی ابتدائی زندگی میں اسے کوئی مادی کام نظر نہیں آتا اور بہت بڑی کامیابی اور تغیر دکھائی نہیں دیتا تو اسے سب نبیوں کو چھوڑنا پڑے گا- کیونکہ اگر اس کا یہ معیار درست ہے تو پچھلے انبیاء کو بھی اس پر پرکھنا چاہئے اور ان کو بھی چھوڑ دینا چاہئے- مگر مسلمان چونکہ انبیاء کی صداقت کے قائل ہیں اس لئے انہیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انبیاء کے متعلق غور کرتے وقت