اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 373 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 373

اسماء المهدی کرتے ہوئے ساتویں معیار کے ماتحت لکھتے ہیں: صفحہ 373 ساتواں معیار وحی ولایت اور مکاشفات محد ثین ہیں۔اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے۔کیونکہ صاحب وحی محدثیت اپنے نمئی متبوع کا پورا اہمرنگ ہوتا ہے۔اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اسکو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں۔اور اس پر یقینی طور پر بھی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس پر وہ سب امور بطور انعام واکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں۔سو اس کا بیان محض اٹکلیں نہیں ہوتیں۔بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سنکر بولتا ہے۔اور یہ راہ اس امت کے لئے کھلی ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے۔اور ایک شخص جو دنیا کا کیڑا اور دنیا کے جاہ وجلال اور ننگ و ناموس میں مبتلا ہے وہی وارث علم نبوت ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ بجز مُطَهَّرِین کے علم نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا۔بلکہ یہ تو اس پاک علم سے بازی کرنا ہے کہ ہر ایک شخص باوجود اپنی آلودہ حالت کے وارث النبی ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی ایک سخت جہالت ہے کہ ان وارثوں کے وجود سے انکار کیا جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اسرار نبوت کو اب صرف بطور ایک گزشتہ قصہ کے تسلیم کرنا چاہئے جن کا وجود ہماری نظر کے سامنے نہیں ہے اور نہ ہو نا ممکن ہے اور نہ ان کا کوئی نمونہ موجود ہے۔بات یوں نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسلام زندہ مذہب نہ کہلا سکتا بلکہ اور مذہبوں کی طرح یہ بھی مردہ مذہب ہوتا اور اس صورت میں اعتقاد مسئلہ